بیروت ہوائی اڈے پر اسرائیل کا حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی طیاروں نے بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے رن وے پر راکٹ پھینکے ہیں جن سے کم از کم دو پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔ اسرائیلی طیاروں کی بمباری سے ہونے والی تباہی کا ابھی پوری طرح پتہ نہیں چلا لیکن کل سے جاری بمباری میں اب تک جنوبی لبنان میں انیس سے زیادہ عام شہری مارے جا چکے ہیں۔ اسرائیل نے کہا کہ اس کے خلاف حزب اللہ کے حملے اور فوجیوں کی ہلاکت اور انہیں قبضے میں لینے کا ذمہ دار لبنان ہے۔ بیروت میں بی بی سی کی نامہ نگار کم گھاٹاس کا کہنا ہے کہ یہ گزشتہ دس سالوں میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ بیروت کے ہوائی اڈے کو اسرائیل نے نشانہ بنایا ہو۔ یہ ہوائی اڈہ لبنان کی خانہ جنگی کے بعد ازسرِ نو تعمیر کیا گیا تھا اور لبنان کے عوام کے لیئے یہ قومی وقار کا نشان تھا۔ اسرائیلی طیاروں اور توپ بردار کشتیوں نے بدھ کو سارا دن لبنان پر بمباری کے بعد اسے رات کو بھی جاری رکھا ہے۔ تاہم اطلاعات ہیں کہ اب تک اسرائیل کے آٹھ فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ اسرائیل کا لبنان کی سرحد پر کئی سالوں کے بعد سب سے بڑا نقصان ہے۔ آٹھ فوجیوں کی ہلاکت کے علاوہ، دو فوجی زخمی اور دو دو حزب اللہ کے قبضے میں ہیں۔ حملے کے آغاز میں تین اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے اور دو کو قبضے میں لے لیا گیا۔ جب اسرائیل کے ٹینک قبضے میں لیئے گئے فوجیوں کو چھڑانے کے لیئے سرحد پار کر کے لبنان میں داخل ہوئے تو ایک ٹینک کے بارودی سرنگ کے ساتھ ٹکرانے سے چار اور ہلاک ہوگئے۔ اسرائیل نے کابینہ کے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد کہا ہے کہ اس حملے کا جواب سختی سے دیا جائے گا۔ اسرائیل کے وزیراعظم ایہود اولمرت نے لبنان کو اسرائیل کے پکڑے جانے والے فوجیوں کی قسمت کا ذمہ دار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک’جنگی حربہ‘ ہے اور لبنان کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ دریں اثناء حزب اللہ نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ ان کے قبضے میں موجود دو اسرائیلی فوجی صرف مذاکرات کے ذریعے ہی واپس حاصل کیئے جا سکتے ہیں۔
حسین نصر اللہ کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل اس بحران کو شدید تر کرنا چاہتا ہے تو ان کی افواج مقابلے کے لیئے تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بیان اسرائیل کی جانب سے فوجیوں کی بازیابی کے لیئے طیاروں، ٹینکوں اور جنگی کشتیوں کی مدد سے جنوبی لبنان پر حملے کے بعد دیا ہے۔ سنہ 2000 کے بعد ہونے والے اس حملے میں سڑکوں اور حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اب تک دو شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔اسرائیلی فوجی جنوبی لبنان میں اپنے ساتھیوں کی تلاش میں داخل ہوگئے ہیں جبکہ حکام کے مطابق ہزاروں ریزرو فوجیوں کو سرحد پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ تاہم حزب اللہ کے ترجمان حسین نابلوسی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی تنظیم اِن فوجیوں کے بدلے میں اسرائیلی جیل میں قید لبنانیوں کی رہائی چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ اسرائیل بات چیت پر آمادہ ہو جائےگا‘۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے لبنان پر اسرائیل حملے کے ساتھ ساتھ فوجیوں کو پکڑنے کی بھی مذمت کی ہے۔ بیروت میں بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ لبانی حکومت بھی اسرائیلی فوجیوں کے پکڑے جانے کے واقعے سے حیران ہے اور ’جو کچھ ہوا ہے وہ اس کی ذمہ دار نہیں ہے‘۔ | اسی بارے میں اسرائیلی حملے میں چھ ہلاک12 July, 2006 | آس پاس ’غزہ میں انسانی سانحہ روکا جائے‘09 July, 2006 | آس پاس غزہ: میزائل حملہ، ایک ہلاک 10 July, 2006 | آس پاس اسرائیلی ٹینک شمالی غزہ میں06 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||