’غزہ میں انسانی سانحہ روکا جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے غزہ میں حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ علاقے میں ممکنہ انسانی بحران سے بچاؤ کے لیئے فوری اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ کرنی کراسنگ سے خوراک اور دوسری ضروری اشیا فلسطینی علاقوں تک پہنچانے کے لیئے بند راستے فوراً کھول دیئے جانے چاہیئیں اور غزہ کے تباہ شدہ بجلی گھر کی مرمت بھی ہو جانی چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے امدادی کارکنوں کو بھی متاثرہ علاقوں میں جانے کی اجازت ہونی چاہیے۔ اپنے ایک بیان میں کوفی عنان نے کہا کہ میں اپیل کرتا ہوں کہ فلسطینی علاقوں میں عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ امدادی اداروں نے پہلے ہی سے خبردار کر رکھا ہے کہ غزہ میں حالیہ واقعات سے دور رس نتائج برآمد ہوں گے اور ان علاقوں میں جہاں پہلے ہی اسّی فیصد افراد غربت کی زندگی گزار رہے ہیں اور چالیس فیصد لوگ بیروزگار ہیں وہاں اسرائیلی کارروائیوں سے بد ترین انسانی سانحے کے آثار واضح نظر آ رہے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے بتایا ہے کہ متاثرہ علاقے میں ہسپتال اور صحت کے مراکز اپنے جنریٹر استعمال کر رہے ہیں جس کے لیئے ان کے پاس صرف دو ہفتے کا ایندھن باقی بچا ہے۔ ادھر اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک کارروائی جاری رکھے گی جب تک وہ اپنے پکڑے گئے فوجی کو رہا نہیں کرا لیتی۔ یاد رہے کہ فلسطینی وزیرِاعظم اسماعیل ہنیہ نے فلسطینیوں اور اسرائیل دونوں سے ہر طرح کی فوجی کارروائیوں سے پرہیز کرنے کی اپیل کی تھی لیکن اسرائیل نے ان کا یہ مشورہ مسترد کر دیا تھا۔ ایک بیان میں اسماعیل ہنیہ نے کہا تھا کہ موجودہ خراب صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ تمام فریقین ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں ترک کر دیں۔ | اسی بارے میں غزہ کے رہنے والوں کے مشکل دن08 July, 2006 | آس پاس فلسطینی پیشکش، اسرائیلی انکار08 July, 2006 | آس پاس فلسطینی ریاست پر ریفرینڈم06 June, 2006 | صفحۂ اول غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے07 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||