غزہ کے رہنے والوں کے مشکل دن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ابو ہانی اور ان کے دوست یہ سب پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کیفے میں بیٹھے ان افراد کے چہروں پر اسرائیلی حملے کے بارے میں کوئی خاص تاثر نہیں ہے۔ اسرائیلی فوج کا آپریشن اس مقام سے محض تین میل کے فاصلے پر جاری ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اردگرد ہونے والے واقعات ان کے لیئے غیر اہم ہیں۔ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ وہ اس بارے میں کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ تاش کھیلنے کے دوران وہ حالات پر تبصرے بھی کرتے جارہے ہیں۔ 61 سالہ شخص کا کہنا ہے ’یہ تو پہلے بھی ہوا ہے اور اب بھی ہوگا‘۔ جمعرات کو اسرائیلی کارروائی کا بدترین دن تھا جب 20 سے زائد فلسطینی ہلاک اور 80 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ جمعہ کا دن قدرے بہتر تھا تاہم ہیلی کاپٹروں اور فائرنگ کی آوازیں اب بھی سنی جاسکتی ہیں۔ بیت الاہیہ میں جمعہ کو بھی کئی فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔ فلسطینی تحویل میں اسرائیلی فوجی کے بارے میں ان افراد کی رائے یہ ہے کہ اس کا اسرائیلی حملے سے کوئی تعلق نہیں۔ 39 سالہ اہاب کے مطابق ’اسرائیلی ہمارا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔ ہمارے پاس جو کچھ تھوڑا بہت باقی بچا ہے وہ اسے بھی تباہ کرنا چاہتے ہیں‘۔ کیفے کی چہل پہل اور لوگوں کے بلند آواز تبصروں میں اسرائیلی ہیلی کاپٹروں اور فائرنگ کی آواز تقریباً دب ہی جاتی ہے۔ ابو ہانی کا کہنا ہے ’ہم نے ماضی میں کچھ اچھے دن بھی دیکھے ہیں۔ لیکن فی الحال تو یہ ہماری لیئے مشکل ترین وقت ہے‘۔ | اسی بارے میں اسرائیلی فوجی تاحال ’زندہ‘ ہے04 July, 2006 | آس پاس فوجی کے مسئلے کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا05 July, 2006 | آس پاس ہانیہ کی عالمی برادری سے اپیل06 July, 2006 | آس پاس غزہ حملوں میں’ آٹھ ہلاک‘06 July, 2006 | آس پاس اسرائیلی ٹینک شمالی غزہ میں06 July, 2006 | آس پاس غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے07 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||