اسرائیلی ٹینک شمالی غزہ میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کی زمینی افواج نے شمالی غزہ کی پٹی میں نئے حملے کیے ہیں اور اس علاقے میں داخل ہوگئی ہیں جہاں سے ایک سال قبل اسرائیل نے تین یہودی بستیاں خالی کردی تھیں۔ اسرائیلی فوج کی تازہ کارروائی جنوبی اسرائیل کے شہر عسقلان پر دوسرے راکٹ حملے کے بعد کی گئی ہے اور اسرائیلی حکومت کی اس پالیسی کا نتیجہ ہے جس کے تحت حماس کی اقتدار والی حکومت پر حملے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ غزہ کی پٹی سے عسقلان پر داغا جانے والا راکٹ ایک ایسے علاقے میں گرا جہاں کوئی زخمی تو نہیں ہوا لیکن ذہنی پریشانی کے لیے کچھ افراد کا علاج کیا گیا۔ منگل تک عسقلان کو فلسطینی شدت پسندوں کے راکٹوں کے رینج سے باہر سمجھا جاتا رہا تھا۔ پچیس جون کو اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کو فلسطینیوں کے قبضے میں لے لینے کے بعد سے اسرائیل غزہ میں کارروائیاں کررہا ہے۔ غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار الن جونسٹن کا کہنا ہے کہ اس بات کی قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ شمالی غزہ کی تین بستیوں کو اسرائیل پھر سے اپنے قبضے میں لے لے گا۔ گزشتہ سال اسرائیلی فوج نے یہ علاقہ یکطرفہ طور پر خالی کردیا تھا۔ بدھ کی شب فلسطینی اہلکار اور عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوجی غزہ میں ایک بستی میں داخل ہوگئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا کہ اس کے فوجیوں نے پیش قدمی کی ہے لیکن مزید تفصیلات نہیں فراہم کی گئیں۔ فلسطینیوں کے مطابق کم سے کم پانچ اسرائیلی ٹینک غزہ میں داخل ہوئے۔ فلسطینی شدت پسند تنظیموں کے قبضے میں اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کےبارے میں مزید تفصیلات نہیں مل رہی ہیں لیکن اسرائیلی حکام کو یقین ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ بدھ کے روز اسرائیلی کابینہ نے کہا کہ فوجی کارروائی کا مقصد غرب اردن اور غزہ میں حماس کو ’نقصان‘ پہنچانا اور ’دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنا‘ ہے۔ ایک دوسرے واقعے میں ایک فلسطینی پولیس افسر اور حماس کی عسکری وِنگ کے ایک رکن اسرائیلی شیلنگ میں اس وقت مارے گئے جب شمالی غزہ میں وہ ایک بارودی سرنگ بچھا رہے تھے۔ | اسی بارے میں ’حماس اسرائیل پر حملے کرے گی‘02 July, 2006 | آس پاس اسماعیل ہنیہ کے دفتر پر فضائی حملہ02 July, 2006 | آس پاس ’اسرائیل کا دورہ‘03 July, 2006 | آس پاس اسرائیل نےالٹی میٹم مسترد کردیا03 July, 2006 | آس پاس ’شدت پسندوں کی مہلت ختم‘04 July, 2006 | آس پاس اسرائیلی فوجی تاحال ’زندہ‘ ہے04 July, 2006 | آس پاس فوجی کے مسئلے کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا05 July, 2006 | آس پاس اقوامِ عالم مداخلت کریں: اسماعیل ہنیہ02 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||