’شدت پسندوں کی مہلت ختم‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ میں فلسطینی شدت پسند گروپوں کی طرف سے اسرائیلی فوجی کی رہائی کے لیئے دی جانے والی مہلت منگل کی صبح ختم ہو گئی۔ گزشتہ شب حماس کی عسکری تنظیم نے جو کہ اس اسرائیلی فوجی کے اغواء کرنے والے تین گروپوں میں شامل ہے کہا تھا کہ اگر اسرائیل مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے تک فلسطینی قیدیوں کی رہائی شروع نہیں کرتا تو اس کے فوجی کی زندگی خطرے میں ہے۔ تاہم حماس کی حکومت کے ترجمان غازی حماد نے دانش مندی اور ہوش سے کام لینے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ دریں اثناء اسرائیلی فوج نے غزہ میں کارروائیاں جا ری رکھیں اور شمالی غزہ میں ایک فضائی حملے میں ایک شخص کو ہلاک کردیا۔ حماس حکومت کے ترجمان غازی حماد نے کہا تھا کہ اسرائیلی فوجی کی زندگی کی حفاظت کرنی چاہیے اور اس مسئلہ کو سفارتی طریقوں سے حل کیا جانا چاہیے۔انہوں کہا کہ وہ سمجھتے ہیں ابھی اس مسئلے کو حل کرنے کا وقت ہے۔ مصر نے غزہ میں دو شدت پسند گروپوں سے اور مصر میں جلاوطن حماس کے رہنماوں سے رابطے قائم کیئے ہیں۔ فلسطینی شدت پسندوں کی طرف سے ایک ہزار فلسطینی قیدیوں جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں کی رہائی کے مطالبے کو فلسطین میں عوامی سطح پر بہت حمایت حاصل ہے۔ تاہم اسرائیلی حکومت کے رویئے میں کوئی نرمی نہیں آئی ہے اور شدت پسندوں سے فوجی کی رہائی کے لیئے کوئی مفاہمت کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اسرائیل کے کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ شدت پسند صرف گیدڑ بھپکیاں دے رہے ہیں کیونکہ اور وہ اسرائیل فوجی کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ اس دوران غزہ پر اسرائیل کی فوجی کارروائیاں جاری ہیں اور اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کے علاقہ بیت لہیا میں ایک گروہ پر حملہ کیا۔ اسرائیل فوج نے کہا کہ ان کے بارے میں شبہہ تھا کہ وہ اسرائیلی فوج پر حملہ کرنے والے ہیں۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق اس فضائی حملے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ | اسی بارے میں اسرائیل نےالٹی میٹم مسترد کردیا03 July, 2006 | آس پاس اقوامِ عالم مداخلت کریں: اسماعیل ہنیہ02 July, 2006 | آس پاس ’شہریوں کے مستقبل سے کھیلا جا رہا ہے‘30 June, 2006 | آس پاس اقوام متحدہ سے مداخلت کی اپیل 28 June, 2006 | آس پاس ’اسرائیل سفارت کاری کو موقع دے‘27 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||