’اسرائیل سفارت کاری کو موقع دے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی مزاحتمت کاروں کی طرف سے اسرائیلی فوجی کے اغوا سے پیدا ہونے والی صورتحال پر امریکہ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ صبر کا مظاہرہ کرے اور معاملےکو سفارتی ذریعوں سے حل کرنے کی کوشش کرے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے پاکستان کے دورہ پر جاتے ہوئے جہاز میں امریکی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ فوجی کے اغوا کا معاملہ سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کرے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی فوجی کی رہائی کے لیے ایک بڑا آپریشن کر سکتا ہے اور وہ فلسطینی مزاحمت کارروں کے مطالبوں کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اسرائیلی ٹینک اور فوجی غزہ کی سرحد پر جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں جہاں خیال کیا جاتا کہ مغوی اسرائیلی فوجی کو رکھا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت نے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی فوجی کی رہائی کے لیے فلسطینیوں گروپوں کا کوئی مطالبہ تسلیم نہیں کریں گے اور اگر اسرائیلی فوجی کو فوراً رہا نہ کیا گیا تو اسرائیل ایک بڑا آپریشن کرے گا۔ فلسطین کے تین شدت پسند گروپوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل اپنی جیلوں میں قید عورتوں اور بچوں کو رہا کرے تو وہ مغوی اسرائیلی فوجی کو رہا کر دیں گے۔ اسرائیلی فوجی کو رہا کرانے کے لیے سفارتی کوششیں شروع ہو چکی ہیں اور مصر کا ایک وفد پہلے ہی غزہ کی پٹی میں پہنچ چکا ہے۔ پروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار جان لینی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی کے اغوا سے پیدا ہونے والی صورتحال اسرائیلی حکومت اور فلسطینی اتھارٹی کی انتظامیہ کے لیے ایک امتحان ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اگر اسرائیل نے فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا تو اس کے فوجی کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے لیکن اگر اس نے فوجی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کو اس کی کمزروی سے تعبیر کیا جائےگا۔ | اسی بارے میں اسرائیلی چوکی پر حملہ، چار ہلاک25 June, 2006 | آس پاس ’ہر قیمت پر فوجی آزاد کرائیں گے‘26 June, 2006 | آس پاس فوجی کارروائی کی اسرائیلی دھمکی26 June, 2006 | آس پاس فوجی کا بدل، بچوں عورتوں کی رہائی26 June, 2006 | آس پاس عورتوں، بچوں کی رہائی: مطالبہ مسترد27 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||