BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 June, 2006, 00:37 GMT 05:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہر قیمت پر فوجی آزاد کرائیں گے‘
ایک زخمی ہو طبی امداد کے لیئے لے جایا جا رہا ہے
اسرائیلی نے حال ہی میں ایک فضائی حملے میں حماس کے رہنما کو ہلاک کر دیا تھا
اسرائیل نے فلسطینی شدت پسندوں کے چھاپے کے دوران اغوا کیئے جانے والے اسرائیلی فوجی کو چھڑانے کا عہد کیا ہے۔

کارپورل گیلد شیلٹ کو اتوار کی صبح فلسطینی شدت پسندوں نے غزہ کی پٹی پر ایک چھاپہ مار حملے میں اغوا کر لیا تھا۔

اتوار کی صبح غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی چوکی پر حملہ کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے جن میں دو اسرائیلی فوجی اور دو فلسطینی شامل ہیں۔

حماس کا کہنا ہے کہ اسے لاپتہ فوجی کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے تاہم اس نے اغوا کرنے والے کسی بھی گروہ سے اپیل کہ اگر ان کے پاس یہ فوجی ہے تو اسے زندہ رکھیں اور اچھی طرح سے اس کی دیکھ بھال کریں۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ فوجی کو واپس لانے کے لیئے جو بھی اس سے بن پڑا کرے گا۔

اسرائیلی فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ اس معاملے میں حماس پوری طرح شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی زندہ ہے اور اس لیئے اس کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔

اسرائیل کے مطابق یہ حملہ کریم شالوم کراسنگ کے نزدیک کیا گیا۔ حکام کے مطابق حملہ تین سو فٹ لمبی ایک سرنگ کھود کر کیا گیا۔

اسرائیلی ترجمان کےمطابق اس حملے میں دو اسرائیلی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

گیلاد شالیٹ
اغوا کیئے جانے والے فوجی کی تصویر

حملے کے چند گھنٹوں کے بعد گن شپ ہیلی کاپٹرز سمیت درجنوں اسرائیلی ٹینک غزہ میں گھس گئے۔

غزہ کی پاپولر ریزیسٹنس کمیٹی کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ یہ حملہ ان کے رہنما کی گزشتہ ماہ اسرائیلی حملے میں ہلاکت کے بدلے کے طور پر کیا گیا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ حملہ حماس کے ملٹری ونگ کے ساتھ مل کر کیا گیا ہے۔

فلسطینی شدت پسند گروہ حماس کے مسلح بازو کا کہنا ہے کہ اس کے حامیوں نے آتشگیر مادے اور بموں سے حملہ کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق حملہ اینٹی ٹینک میزائیل سے کیا گیا جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔

غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جونسٹن کا کہنا ہے کہ گزشتہ موسم گرما میں علاقے سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کے کے بعد یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا آپریشن ہے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ کارروائی حال ہی میں غزہ کے ساحل پر فلسطینی خاندان کی ہلاکت کا جواب ہے۔

حماس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک اسرائیلی ٹینک بھی تباہ کیا ہے تاہم اسرائیل نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

نامہ نگار نے کہا ہے کہ اب فلسطینی ہمیشہ کی طرح اسرائیل کی انتقامی کارروائی کے خوف میں رہیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد