ہلاکتیں، ہم ذمہ دار نہیں: اسرائیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ جمعہ کو سمندر کے کنارے دھماکے میں ہلاک ہونے والے سات فلسطینی اسرائیلی شیلنِگ میں ہلاک نہیں ہوئے تھے۔ وزیر دفاع امیر پیریٹز ان ہلاکتوں کے بارے میں کی جانے والی اسرائیلی تحقیقات کی رپورٹ کا انکشاف کررہے تھے۔ ابتدائی طور پر اس حملے کے لیے اسرائیلی فوجیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ یہ اسرائیلی انکوائری جائے حادثہ کی ٹی وی فلم اور اسرائیل میں زیرعلاج افراد سے لیے جانے والے دھماکہ خیز مواد کے ٹکڑوں پر مبنی ہے۔ امریکہ میں واقع انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ ہلاکتیں ممکنہ طور پر اسرائیلی شیلنِگ کے نتیجے میں ہوئیں۔ ہلاک ہونے والوں میں تین بچے بھی تھے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے اس واقعے کی مکمل غیرجانبدارانہ انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ اس واقعے کے بعد حکمراں شدت پسند تنظیم حماس نے اسرائیل کے ساتھ اپنی غیررسمی فائربندی ختم کردی اور اسرائیل پر درجنوں راکٹ داغے۔ اسرائیلی فوج نے شروع میں کہا تھا کہ فلسطینی شہریوں کی ہلاکت پر اسے افسوس ہے۔ اسرائیل نے شیلنگ بند کردی تھی اور جنرل میر کلیفی کی سربراہی میں اس انکوائری کا اعلان کیا تھا۔ اسرائیلی تحقیقات فوج کی جانب سے فائر کیے جانے والے چھ گولوں پر مبنی ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ چھ گولے جائے وقوع سے ڈھائی سو کیلومیٹر دور گرے تھے۔ ایک گولہ غلط نشانے پر لگا لیکن اسرائیلی فوج کے مطابق وہ دھماکہ جس میں فلسطینی خاندان مارا گیا کم سے کم آٹھ منٹ بعد ہوا۔ اپنی تحقیقات میں جنرل کلیفی نے کہا: ’اس بات کا امکان کہ آرٹیلری فائر اس وقت اس علاقے پر گرا صفر ہے۔‘ جنرل کلیفی کے ساتھ وزیر دفاع پیریٹز بھی تھے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ ’اسے اسرائیلی واقعہ قرار دینے کی نیت بالکل صحیح نہیں ہے۔‘ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دھماکہ کیسے ہوا تھا۔ اسرائیل اکثر و بیشتر شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کے لیے شمالی غزہ پر گولے برساتا ہے جو اسرائیل پر راکٹوں سے حملے کرتے ہیں۔ | اسی بارے میں غزہ:اعلی سکیورٹی اہلکار ہلاک08 June, 2006 | آس پاس غزہ میں بچوں کی ہلاکت پر رد عمل10 June, 2006 | آس پاس اسرائیلی حملہ: بچے، نو ہلاک13 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||