غزہ میں بچوں کی ہلاکت پر رد عمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ میں جمعہ کے روز سمندر کے ساحل پر تفریح کرنے والے تین بچے سمیت سات افراد کی ہلاکت کے بعد حماس کی عسکری بازو نے اسرائیل کے ساتھ فائر بندی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ فلسطینی بیت لحیہ کے قریب ایک اسرائیلی بحری جہاز کی فائرنگ سے مارے گئے۔اس واقعے میں پینتیس لوگ زخمی ہوئے ہیں جن میں بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ واقعے کے فوراً بعد بنائی گئی تصاویر میں ظاہر ہوتا ہے کہ فائرنگ سے پہلے یہ لوگ سمندر کنارے پِکنک منا رہے تھے اور بچے ریت میں کھیل رہے تھے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے بحری جہاز سے یہ گولے نہیں داغے گئے تھے اور نہ ہی یہ ایک یا فضائی حملہ تھا تاہم وہ اس کی تفتیش کر رہے ہیں۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے اس واقعہ کے بعد تین روز کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔ فائربندی ختم کرنے کا اعلان حماس کی عسکری بازو عزالدین القسام بریگیڈ نے اپنی ویب سائٹ پر کیا ہے۔ اس بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کی خونریزی اور جارحیت کے مد نظر ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے اور اسرائیل کے شہروں میں ’پھر زلزلے شروع ہونگے۔‘
حماس کی سیاسی تنظیم جو پچھلے انتخابات میں منتخب ہو کر فلسطینی انتظامیہ چلا رہی ہےنے اس اعلان پر ابھی کچھ نہیں کہا ہے۔ انٹرنیٹ پر اعلان کے علاوہ بریگیڈ نے اس بیان کے پیمفلیٹ بھی تقسیم کیے ہیں۔ ادھر اسرائیل نے جمعہ کے روز شمالی غزہ پر بھی ایک فضائی حملہ کیا جس میں چار فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔ ایک روز پہلے اسرائیل نے جنوبی غزہ پر فضائی حملہ کر کے فلسطینی انتظامیہ کے سکیورٹی کے اعلی اہلار جمال عبد السمدھانہ سمیت چار افراد کو ہلاک کیا تھا۔ | اسی بارے میں غزہ:اعلی سکیورٹی اہلکار ہلاک08 June, 2006 | آس پاس غزہ: دو ہفتوں میں دوہزاراسرائیلی گولے17 April, 2006 | آس پاس فلسطینی دھڑوں کے بیچ مسلح جھڑپیں19 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||