اقوام متحدہ سے مداخلت کی اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ نے اقوام متحدہ سے درخواست کی ہے کہ وہ غزہ میں تشدد بند کرانے کے لیئے مداخلت کرے۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے خبر دار کیا ہے کہ غزہ میں جاری تشدد پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ غربِ اردن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج نے فلسطینی وزیر محنت محمد برغوطی کو حراست میں لے لیا ہے۔ اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں فوجی کارروائی منگل کی رات کو شروع کی تھی اور اسرائیل کے مطابق حملے کا مقصد اپنے ایک اغواء شدہ فوجی کو فلسطینی شدت پسندوں کے چنگل سے آزاد کرانا ہے۔ اقوام متحدہ سے اپیل فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ نے اقوام متحدہ سے مداخلت کی اپیل ایک ایسے موقع پر کی ہے جب اسرائیل دستوں نے جنوبی غزہ میں مورچہ بندی کی ہوئی ہے۔ مسٹر اسماعیل ہنیہ کے مطابق امریکہ اسرائیل کو غزہ میں فوجی کارروائی کے لیئے گرین سگنل دے چکا ہے اور غزہ کے لوگوں کو اب ایک مکمل جنگ کا سامنا ہے۔ کوفی عنان کی وارننگ دوسری طرف اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے خبر دار کیا ہے کہ غزہ میں جاری تشدد پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ کوفی عنان کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے شام کے صدر بشر الاسد کے گھر کے اوپر پرواز کے لیئے اپنے جنگ طیارے روانہ کیئے ہیں۔ اسرائیلی قیادت دمشق میں رہائش پذیر حماس رہنما خالد مشعل کو اپنے فوجی کے اغواء کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل شام کے صدر بشر الاسد پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے تاکہ وہ اسرائیلی فوجی کی رہائی میں مدد کریں۔ شام کا کہنا ہے کہ اس کی طیارہ شکن توپوں نے اسرائیلی طیاروں پر فائرنگ کی ہے لیکن اس بات کی تصدیق نہیں کی جا سکی کہ آیا وہ طیارے صدارت محل کے اوپر پرواز کر رہے تھے یا نہیں۔ دوسری طرف غربِ اردن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج نے فلسطینی وزیر محبت محمد برغوطی کو حراست میں لے لیا ہے۔ فلسطینی حکام کے مطابق ان کی کار کو رملہ کے قریب روکا گیا اور انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ اسرائیلی دھمکی اس سے پہلے اسرائیل کے وزیر اعظم نے فلسطینی شدت پسندوں کو زیر حراست فوجی کی رہائی کے لیئے ’انتہائی اقدام‘ کی دھمکی دی تھی۔ وزیر اعظم اولمرت نے کہا ہے کہ ’ہم گیلاد کو اس کے خاندان کے پاس واپس لانے کے لیئے کسی انتہائی اقدام سے گریز نہیں کریں گے‘۔ اسرائیل کے وزیر برائے پبلک سکیورٹی اوی ڈِچر نے اسرائیلی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں موجود فلسطینی قیادت کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ شام نے اسرائیل کی بات کو نظر انداز کرنے کا راستہ اپنایا ہے اس لیئے ’یہ بات اسرائیل کو ان قاتلوں پر حملہ کرنے کا پورا اختیار دیتی ہے‘۔ اس کے فوراً بعد عینی شاہدین نے غزہ میں شدت پسندوں کے تربیتی کیمپ پر ایک فضائی حملے کی اطلاع دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق تربیتی کیمپ پر میزائیل بھی داغا گیا ہے۔ تاہم ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ غزہ میں فوجی کارروائی سے قبل اسرائیلی فضائیہ کے طیاروں نے غزہ میں تین پلوں اور ایک بڑے بجلی گھر کو تباہ کردیا۔ اسرائیل فوج کا کہنا ہے کہ ان پلوں کو اس لیئے تباہ کیا گیا ہے تاکہ اغواء شدہ اسرائیلی فوجی کو علاقے سے باہر نہ منتقل کیا جا سکے۔ اسرائیلی فوج نے پیش قدمی کے دوران غزہ پر شیلنگ اور بمباری جاری رکھی اور اس کی آڑ میں ہی اسرائیلی فوج نے رفا کے باہر کھیتوں اور ایک پرانے ہوائی اڈے کے قریب مورچہ بندی کی۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ فوج نے اس علاقے میں آبزرویشن پوسٹ یا چوکیاں قائم کی ہیں۔ تاہم یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ اسرائیل اس فوجی کارروائی میں کتنے فوجی استعمال کر رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کارروائی کا واحد مقصد اسرائیلی فوجی کی رہائی ہے۔ اسرائیلی فوجی ترجمان نے کہا کہ ’جیسے ہی ہم اس مقصد میں کامیاب ہو گئے ہم غزہ سے نکل جائیں گے۔‘ غزہ میں تازہ فوجی کارروائی علاقے سے اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے انخلاء کے ایک سال سے بھی کم عرصے میں کی جا رہی ہے۔ غزہ پر اسرائیلی فوج نے انیس سو سڑ سٹھ میں قبضہ کیا تھا۔ امریکہ اسرائیل پر زور دے رہا ہے کہ وہ فوجی کی بازیابی کے لیئے سفارتی ذرائع پر زیادہ توجہ دے۔ اسرائیلی فوج کی بازیابی کے لیئے کی جانے والی سفارتی کوششوں میں فرانس اور مصر پیش پیش ہیں۔
بی بی سی کے نمائندہ نک تھروپ کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی پیش قدمی سفارتی کوششوں کو تقویت دینے یا دباؤ بڑھانے کے لیئے کی گئی ہواور اس کا مقصد سفارتی کوششوں کی جگہ صرف طاقت کا استعمال نہ ہو۔ اسرائیلی فوجی کارروائی کے پیش نظر غزہ کے علاقے میں رہائش پذیر فلسطینیوں نے محفوظ مقامات پر منتقل ہونا شروع کر دیا ہے۔ ایک مقامی محمد ابو ذکر نے کہا کہ انہوں نے جب علاقے میں ٹینکوں اور فوجیوں کو جمع ہوتے دیکھا تو انہوں نے علاقہ چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیا۔ غزہ کے مکین تمام رات اسرائیلی طیاروں کی آوازیں سن کر جاگتے رہے۔ اگرچہ فلسطینیوں کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی گئی تاہم فلسطینی راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے رہے اور چھاپہ مار حملوں کی پوزیشنیں سنبھالنے میں مصروف رہے۔ فلسطینی شدت پسندوں نے اسرائیلی فوج کے حملے کے پیش نظر علاقے میں روکاوٹیں کھڑی کرنا اور مورچہ بندی کرنا شروع کر دی ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اب تک انہیں کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔ | اسی بارے میں ’ہر قیمت پر فوجی آزاد کرائیں گے‘26 June, 2006 | آس پاس عورتوں، بچوں کی رہائی کا مطالبہ27 June, 2006 | آس پاس اسرائیلی کا اغوا، فلسطین میں بحران27 June, 2006 | آس پاس حماس نے ’اسرائیل کو تسلیم کر لیا‘27 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||