غزہ حملوں میں’ آٹھ ہلاک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی غزہ پر اسرائیل کے فضائی حملے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ غزہ میں طبی ذرائع کے مطابق تشدد اس وقت شروع ہوا جب اسرائیل کی زمینی افواج شمالی غزہ میں داخل ہوکر آگے بڑھنے لگی۔ ایک سال پہلے اسرائیل نے یہاں سے تین یہودی بستیاں خالی کردی تھیں۔ اس سے قبل جنوبی شہر عباسان میں ہونے والے فضائی حملے کے نتیجے میں دو فلسطینی ہلاک جبکہ سات زخمی ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق شمالی غزہ میں لڑائی میں ایک اسرائیلی فوجی شدید زخمی بھی ہو گیا ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج عربی ٹی وی چینل الجزیرہ پر نشر کی جانے والی اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کی اس کا فوجی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بعد میں چل بسا۔ اسرائیلی فوج کی تازہ کارروائی جنوبی اسرائیل کے شہر عسقلان پر دوسرے راکٹ حملے کے بعد کی گئی ہے اور اسرائیلی حکومت کی اس پالیسی کا نتیجہ ہے جس کے تحت حماس کی اقتدار والی حکومت پر حملے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ غزہ کی پٹی سے عسقلان پر داغا جانے والا راکٹ ایک ایسے علاقے میں گرا جہاں کوئی زخمی تو نہیں ہوا لیکن ذہنی پریشانی کے لیے کچھ افراد کا علاج کیا گیا۔ منگل تک عسقلان کو فلسطینی شدت پسندوں کے راکٹوں کے رینج سے باہر سمجھا جاتا رہا تھا۔ پچیس جون کو اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کو فلسطینیوں کے قبضے میں لے لینے کے بعد سے اسرائیل غزہ میں کارروائیاں کررہا ہے۔ غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار الن جونسٹن کا کہنا ہے کہ اس بات کی قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ شمالی غزہ کی تین بستیوں کو اسرائیل پھر سے اپنے قبضے میں لے لے گا۔ گزشتہ سال اسرائیلی فوج نے یہ علاقہ یکطرفہ طور پر خالی کردیا تھا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس علاقے پر پھر سے قبضے کرکے اسے ایک بفر زون کی حیثیت سے استعمال کیا جائے گا تاکہ ان شدت پسندوں کو اسرائیلی سرحد سے دور رکھا جاسکے جو اسرائیل پر راکٹ داغتے رہتے ہیں۔ بدھ کی شب فلسطینی اہلکار اور عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوجی غزہ میں ایک بستی میں داخل ہوگئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا کہ اس کے فوجیوں نے پیش قدمی کی ہے لیکن مزید تفصیلات نہیں فراہم کی گئیں۔ فلسطینیوں کے مطابق کم سے کم پانچ اسرائیلی ٹینک غزہ میں داخل ہوئے۔ فلسطینی شدت پسند تنظیموں کے قبضے میں اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کےبارے میں مزید تفصیلات نہیں مل رہی ہیں لیکن اسرائیلی حکام کو یقین ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ | اسی بارے میں ’حماس اسرائیل پر حملے کرے گی‘02 July, 2006 | آس پاس اسماعیل ہنیہ کے دفتر پر فضائی حملہ02 July, 2006 | آس پاس ’اسرائیل کا دورہ‘03 July, 2006 | آس پاس اسرائیل نےالٹی میٹم مسترد کردیا03 July, 2006 | آس پاس ’شدت پسندوں کی مہلت ختم‘04 July, 2006 | آس پاس اسرائیلی فوجی تاحال ’زندہ‘ ہے04 July, 2006 | آس پاس فوجی کے مسئلے کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا05 July, 2006 | آس پاس اقوامِ عالم مداخلت کریں: اسماعیل ہنیہ02 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||