فلسطینی پیشکش، اسرائیلی انکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ہانیہ نے فلسطینیوں اور اسرائیل دونوں سے ہرطرح کی فوجی کارروائیوں سےپریز کرنے کو کہا ہے لیکن اسرائیل نے ان کی یہ بات مسترد کر دی ہے۔ اپنے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اسماعیل ہانیہ نے کہا ہے کہ موجودہ خراب صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ تمام فریقین ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں ترک کردیں لیکن اسرائیلی وزیراعظم نے یہ پیشکس رد کر دی ہے اور کہا ہے کہ پہلے اسرائیل فوجی کی رہائی ضروری ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے شمالی غزہ کے سرحدی علاقے سے اپنی فوجیں واپس بلالی ہیں جبکہ مشرقی غزہ میں ہونے والی جھڑپوں میں تین فلسطینی ہلاک ہوگئے ہیں۔ فوج کا انخلاء دو روز کی شدید جھڑپوں کے بعد کیا گیا ہے جن میں تیس فلسطینی اور ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ ہلاکتیں غزہ شہر کے کارنی علاقے میں اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان تصادم کے دوران ہوئی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس کے وہ فوجی جو بدھ کو بیت الاہیہ میں داخل ہوئے تھے، وہ اب واپس اسرائیلی علاقے میں چلے گئے ہیں۔ غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار وین ڈیویز کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں شدید ترین جھڑپیں ہورہی تھیں اوت ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیل نے فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ کیوں کیا ہے۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے اسرائیل پر غزہ کی پٹی میں غیرمتناسب طاقت کے استعمال کا الزام لگایا ہے۔ ایک سخت بیا ن میں عنان نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ اپنی فوجی کارروائی فوری طور پر روک دے۔ سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے فلسطینی شدت پسندوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اسرائیل میں راکٹ داغنا بند کریں اور اپنے قبضے سے اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کو رہا کریں۔ شالیت کو فلسطینی شدت پسند تنظیموں نے پچیس جون کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ فلسطینی علاقوں میں برسراقتدار فلسطینی اسلامی تحریک حماس نےپہلی بار اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گیلاد شالیت زندہ ہیں اور ان سے انسانی سلوک کیا جارہا ہے۔ اسرائیل نے غزہ میں اپنی کارروائی گیلاد شالیت کے قبضے میں لیئے جانے کے بعد شروع کی تھی۔ حماس کی جانب سے جاری کیئے جانے والے ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے حماس اسرائیل سے صرف اس بات کی اپیل کررہی ہے کہ وہ فلسطینی خواتین اور بچوں کو اپنی جیلوں سے رہا کردے۔ حماس کے نئے بیان میں اس کے پہلے والے اس مطالبے کا ذکر نہیں ہے جس میں اسرائیل سے ایک ہزار قیدیوں کو رہا کرنے کی بات کی گئی تھی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کے علاوہ یورپی یونین نے بھی اسرائیل پر غزہ میں غیرمتناسب طاقت کے استعمال کے لیے تنقید کی ہے۔ یورپ اسرائیل کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور شاید ہی کبھی اس پر تنقید کرتا ہے۔ حماس نے اپنے بیان میں اسرائیلی رہنماؤں پر گیلاد شالیت کی رہائی کے معاملے میں بات چیت سے انکار کے لیے تنقید کی اور کہا کہ اب یہ معاملہ اسرائیل کے ہاتھ میں ہے۔ جمعہ کو اسرائیل نے قیدیوں کی ممکنہ رہائی کے بارے میں غیرواضح اشارے دیے۔ اسرائیلی وزیر داخلہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ اسرائیل کو ’معلوم ہے کہ خیرسگالی کی علامت کے طور پر قیدیوں کی رہائی کیسے کی جاتی ہے۔‘ لیکن وزیر داخلہ نے بعد میں ٹی وی پر ایک بیان میں کہا کہ ’میں نے ابھی وزیراعظم ایہود اولمرت سے بات کی ہے اور ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔‘ جمعہ کے روز ہونے والی لڑائی میں پانچ فلسطینی ہلاک ہوگئے۔ اس طرح گزشتہ دو دنوں میں اس لڑائی میں تیس فلسطینی ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں بیشتر شدت پسند تھے لیکن ان میں سویلین بھی ہیں۔ ادھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد کے مسودے پر بات ہوئی ہے جس میں اسرائیل سے غزہ سے واپسی اور قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قطر کی جانب سے پیش کی جانے والی اس قرارداد کے مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کیوں کہ امریکہ کو ویٹو کا حق ہے اور اقوام متحدہ میں امریکی سفیر جان بولٹن نے کہا ہے کہ قرارداد کا مسودہ یکطرفہ ہے۔ | اسی بارے میں اسرائیلی فوجی تاحال ’زندہ‘ ہے04 July, 2006 | آس پاس فوجی کے مسئلے کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا05 July, 2006 | آس پاس ہانیہ کی عالمی برادری سے اپیل06 July, 2006 | آس پاس غزہ حملوں میں’ آٹھ ہلاک‘06 July, 2006 | آس پاس اسرائیلی ٹینک شمالی غزہ میں06 July, 2006 | آس پاس غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے07 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||