فلسطینی ریاست پر ریفرینڈم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے فلسطینی ریاست کے سوال پر رائے شماری کروانے کے اپنے منصوبے کی تصدیق کی ہے جس کے تحت بالواسطہ طور پر اسرائیلی ریاست کے وجود کا حق تسلیم ہو جاتا ہے۔ ریفرینڈم کی تاریخ کا اعلان منگل کو ہوگا۔ ریفرینڈم کے منصوبے کا اعلان حماس کو ایک ایسی فلسطینی ریاست کے تصور کے بارے میں قائل کرنے کی ناکامی کے بعد پیش کیا گیا جو اسرائیل کو بھی تسلیم کرے۔ حماس اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی اور پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ اس طرح کا ریفرینڈم غیر قانونی ہوگا۔ محمود عباس نے پچیس مئی کو فلسطینی تنظیموں کو کسی منصوبے پر متفق ہونے کے لیے دس روز کی مہلت دی تھی اور کہا تھا کہ دوسری صورت میں وہ ریفرینڈم کا اعلان کر دیں گے۔ پیر کو مہلت ختم ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے مذاکرات ناکام ہو گئے۔ محمود عباس کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ’حالیہ رابطوں کی روشنی میں صدر عباس پی ایل او کی انتظامی کمیٹی سے ملاقات کے بعد ریفرینڈم کی تاریخ کا اعلان کریں گے‘۔ فلسطینی انتظامیہ کے صدر اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ فلسطینی قانون میں اس طرح کی رائے شماری کی اجازت نہیں ہے۔ مجوزہ ریفرینڈم صرف عوامی رائے جاننے کے لیے ہے اور حکومت اس کے نتائج کی پابند نہیں ہو گی اور صدر عباس کے مشیروں کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے اس کے اعلان میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں۔ جنوری میں انتخابات کے بعد سے حماس اور الفتح کے درمیان کشیدگی جاری ہے۔ پیر حماس کے مسلح حامیوں نے غزہ میں الفتح کی طرف جھکاؤ کا الزام لگاتے ہوئے ایک ٹیلیویژن سنٹر پر حملہ کر دیا۔ | اسی بارے میں اسرائیلی سرحدی منصوبے کی’توثیق‘24 May, 2006 | آس پاس عمر بھرانتظار نہیں کر سکتے: عباس25 May, 2006 | آس پاس مشرقِ وسطیٰ امن اور ایران پر گفتگو23 May, 2006 | آس پاس فلسطینیوں سے بات کریں: بش24 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||