اسرائیلی سرحدی منصوبے کی’توثیق‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے اسرائیل کی طرف سے یک طرفہ طور پر حتمی سرحدوں کا تعین کرنے کے منصوبے کی توثیق کی ہے۔ اسرائیل وزیر اعظم ایہود اولمرت کے ساتھ ملاقات کے بعد صدر بش نے اسرائیلی منصوبے کوجراتمندانہ قرار دیا۔ امریکی صدر نےاسرائیلی سرحدی منصوبے کی کھل کر حمایت نہیں کی اور اسرائیلی قیادت کو کہا کہ وہ اپنے سرحدی منصوبے کو آخری حل کے طور استعمال کریں۔ حماس نے امریکی صدر کی طرف سے اسرائیلی منصوبے کی ثوثیق کرنے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے فلسطینی تحریک کو شدید دھچکا پہنچے گا۔ امریکی صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت پر زور دیا کہ وہ فلسطینی قیادت کے ساتھ بات چیت کا عمل شروع کریں اور یک طرفہ طور پر سرحدوں کا تعین صرف اس صورت میں کیا جائے جب باقی ساری کوششیں ناکام ہو جائیں۔ فلسطینی قیادت اسرائیلی سرحدی منصوبے کو فلسطینی زمین کی چوری قرار دیتی ہے جو بقول اس کے 1967 کی جنگ میں قبضے میں لی گئی فلسطینی زمین پر اسرائیلی تسلط کو قانونی بنانا چاہتا ہے۔ ایہود اولمرت نے کہا کہ اسرائیل یکطرفہ طور پر حتمی سرحدوں کا فیصلہ کرنے سے قبل تمام دو طرفہ بات چیت کے ذریعے کو آزمائےگا۔ تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ حماس سے اس وقت تک بات چیت نہیں کریں گے جب تک وہ تشدد کو ترک نہیں کرتی۔ امریکہ کے صدر جارج بش نے اسرائیلی وزیرِ اعظم پر زور دیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیئے فلسطین سے براہِ راست مذاکرات شروع کریں۔
ایہود اولمرت گزشتہ روز واشنگٹن میں وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس سے ملاقات کی تھی جس میں مشرقِ وسطیٰ میں امن کے عمل اور ایران کے جوہری پروگرام پر خدشات بات چیت کا اہم موضوع رہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایہود اولمرت نے امریکہ کے اپنے پہلے دورے میں صدر جارج بش سے جو بات چیت کی ہے اس کا محور فلسطین اور اسرائیلی تنازع رہا۔بظاہر اس ملاقات کو صدر بش نے امن کوششوں کو بچانے کے لیئے استعمال کیا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے حماس کی فلسطینی حکومت کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے اور تشدد کو ترک نہ کرنے کی مذمت کی۔ حال ہی میں اسرائیلی وزیراعظم نے فلسطینی صدر محمود عباس پر بے بس اور کمزور ہونے کے حوالے سے تنقید کی تھی۔ لیکن اس ملاقات کے بعد ان کا لہجہ زیادہ مصالحانہ تھا۔ انہوں نے محمود عباس کو مخلص قرار دیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اسرائیل حتمی سمجھوتے کے لیے ہمیشہ فلسطینیوں کا انتظار نہیں کرے گا۔ لیکن یکطرفہ اسرائیلی اقدامات کی کھلی امریکی توثیق نہ ہونے سے یہ بات ابھی تک جواب طلب ہے کہ امریکی اس معاملے پر کس حد تک ایہود اولمرت کی حمایت کریں گے۔ | اسی بارے میں مرضی کی سرحد بنائیں گے:اولمرت04 May, 2006 | آس پاس ایہود اولمرت: ایریئل شیرون کے ’جانشین‘05 January, 2006 | آس پاس اسرائیلی سرحد کا تعین ہوگا:اولمرت29 March, 2006 | آس پاس اسرائیل: سرحد کے لیئے امریکی مشورہ 26 March, 2006 | آس پاس ’سعدات کے خلاف قتل کا مقدمہ نہیں‘27 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||