ایہود اولمرت: ایریئل شیرون کے ’جانشین‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی وزیراعظم ایریئل شیرون کی انتہائی نازک حالت کے پیش نظر ہسپتال میں داخل ہونے کے بعد ان کی غیر موجودگی میں تمام اختیارات ان کے نائب اور وزیرخزانہ ایہود اولمرت کو منتقل ہوگئے ہیں۔ آئین کے تحت وہ ملک پر سو دن برسراقتدار رہ سکتے ہیں۔ ملک میں اٹھائیس مارچ کو نئے انتخابات ہونے والے ہیں۔ اسرائیلی صدر کو سیاسی رہنماؤں کو ایک مخلوط حکومت کے قیام پر راضی کرنا ہے ۔ ساٹھ سالہ اولمرت کو ملک بھر میں شیرون کے قریبی اتحادی کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ اولمرت انیس سو پینتالیس میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے وکالت کی تربیت حاصل کی۔ ان کے والد بھی اسرائیلی پارلیمنٹ کے رکن تھے۔ انیس سو تہتر میں اٹھائیس سال کی عمر میں وہ پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ اس سے قبل وہ اسرائیلی وزارت دفاع میں انفینٹری یونٹ کے افسر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ انیس سو ترانوے اور دو ہزار تین میں یروشلم کا میئرمنتخب ہونے کے بعد انہوں نے شہر کے وسائل کو سڑکوں، پانی اور سیوریج کے نظام کو بہتر بنانے میں صرف کیا۔ اولمرت شادی شدہ ہیں۔ ان کے چار بچے ہیں۔ انہوں نے غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کے دوران ہر قدم پر شیرون کی حمایت کی۔ اس کے علاوہ گزشتہ سال نومبر میں لیکود پارٹی چھوڑ کرنئی پارٹی بنانے میں بھی وہ شیرون کے ساتھ تھے۔ انیس سوترانوے میں یروشلم کا میئر رہنے کے بعد دوہزار تین میں وہ کابینہ میں شامل ہوئے۔ اسرائیل کے اخبارات کے مطابق شیرون اور اولمرت میں قربت دوہزار ایک کے بعد بڑھی۔ فوجی انخلاء پر ساتھ دینے پر شیرون نے انہیں وزارت میں ایک اہم عہدہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے فروری دوہزار تین میں ملک کے نائب وزیراعظم کے عہدے پر کام کرنا شروع کیا۔ دسمبر دو ہزار تین میں ان کے اس بیان پر بڑی گرما گرمی ہوئی جس میں انہوں نے مشورہ دیا تھا کہ اسرائیل کو غرب اردن اور غزہ سے نکل جانا چاہیے۔ انہوں نے ایک اخباری مضمون میں اپنے اس بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ بہ حیثیت ایک جمہوری یہودی ریاست اسرائیل کی بہتری انخلاء میں ہی ہے۔ تاہم اولمرت نے خبردار کیا تھا کہ عرب جلد ہی اسرائیلی مقبوضات میں آباد یہودی سے تعداد میں بڑھ جائیں گے اور اسرائیل کو بطور ایک یہودی ریاست کے اپنی شاخت برقرار رکھنے کے لیے ایک نئی سرحد بنانی ہوگی۔ ان کے اس بیان کے بعد کابینہ میں یہودی آباد کاروں کی نمائندگی کرنے والے ان کے ساتھیوں نے ان پر دہشت گردی کے سامنے سر جھکانے کا الزام لگایا تھا۔ تمام تر تنازعات کے باوجود اسرائیل کی فوج کا انخلاء اسرائیلیوں کی بڑی اکثریت کی حمایت سےحکومت کی پالیسی کا حصہ بنا۔ اولمرت بنیامین نیتن یاہو کے حریف رہے ہیں۔ نیتن یاہو نے دوہزار پانچ میں غزہ سے فوجی انخلاء پر احتجاج کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ ان کے بعد اولمرت کو یہ عہدہ دیا گیا۔ ایک دوسرے کے حریف ہونے کے باوجود تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دونوں میں کئی باتیں مشترک ہیں۔دونوں میں قدرتی طور پر رہنما بننے، کسی موضوع پر بات کرنے ، فوٹو جینک دکھنے اور پریس کو ڈیل کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہیں۔ |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||