BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 January, 2006, 00:23 GMT 05:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایریئل شیرون: جو جی چاہا وہ کیا
ایریئل شیرون
کبھی گھر تباہ کیے تو کبھی گھر واپس
ایریئل شیرون ایک ہٹ دھرم انسان ہیں اور انہیں اس پر فخر بھی ہے۔ ایریئل شیرون کا یہ مسئلہ نہیں کہ کون ان سے نفرت کرتا ہے اور ہے اور کون ان سے محبت۔ وہ چاہے اسرائیلی ہوں یا عرب۔

سابق اسرائیلی سپاہی کا صرف ایک مقصدِ حیات رہا ہے اور وہ ہے اسرائیل کی شرائط پر ہی اس کا مکمل تحفظ۔

اسے حاصل کرنے کے لیے انہوں نے ایک آسان طریقہ نکالا تھا۔ یہودیوں کو زیادہ سے زیادہ زمینی اور سیاسی اختیارات مہیا کیے جائیں اور فلسطینیوں کو کم سے کم۔

لیکن غزہ کی پٹی اور غربِ اردن سے اسرائیلی آباد کاروں کے ان کے منصوبے سے ان کے حامی بھی مکمل اختلاف رکھتے ہیں۔ اسرائیلی آباد کاروں کا انخلاء اگست 2005 میں مکمل ہو گیا تھا اور اسے ان کی لیکود جماعت نے ہمیشہ ویٹو کیا تھا۔

انہوں نے بالآخر گزشتہ سال نومبر میں لیکود کو خیر آباد کہا اور نئی جماعت ’قدیما‘ یعنی آگے کی طرف، کی بنیاد رکھی۔

اٹھارہ دسمبر کو انہیں ایک ہلکا سا دل کا دورہ پڑا تھا۔ ان کے ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ویسے تو انہیں ماضی میں کوئی خاص بیماری نہیں رہی لیکن ان کا زیادہ وزن ہی ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔

شیرون 1928 میں فلسطین میں پیدا ہوئے جو اس وقت برطانیہ کے زیرِ اختیار تھا۔

جب وہ نوجوان تھے تو انہوں نے ایک خفیہ یا زیرِ زمین یہودی فوجی تنظیم ’ہاگاناہ‘ میں شمولیت اختیار کی اور 49-1948 میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد عرب۔اسرائیلی جنگ میں حصہ لیا۔

1950 کی دہائی میں انہوں نے عربوں کے خلاف کئی کارروائیوں میں حصہ لیا اور 1953 میں کی جانے والی ایک کارروائی میں قبیا کے گاؤں میں عربوں کے پچاس گھر بموں سے اڑا دیے جس میں 69 رہائشی ہلاک ہو گئے۔

صدر بش اور شیرون
صدر بش نے شیرون کو ’امن کا آدمی‘ قرار دیا ہے

1955 میں ایک کارروائی میں غزہ کی پٹی میں 38 مصری فوجی ہلاک کر دیے گئے۔

1967 میں جون میں ہونے والی چھ روزہ جنگ میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم، غزہ کی پٹی اور غربِ اردن پر قبضہ کر لیا۔ اس دوران شیرون بریگیڈیئر جنرل بنا دیے گئے۔

شیرون کو 1973 میں اسرائیلی کابینہ کینسیٹ میں منتخب کیا گیا لیکن ایک سال بعد ہی وہ مستعفی ہو گئے اور یتزاک رابن کے سلامتی کے مشیر بن گئے۔

1977 میں شیرون کو دوبارہ پارلیمان کے لیے منتخب کر لیا گیا۔

1982 میں شیرون نے لبنان میں تباہ کن حملے کا منصوبہ بنایا۔ انہوں نے وزیرِ اعظم بیگن کو پوری طرح سے آگاہ کیے بغیر بطور وزیرِ دفاع اپنے طور پر ہی بیروت تک اسرائیلی فوج بھیج دی۔ ان کے اس حملے کی وجہ سے یاسر عرفات کی جماعت پی ایل او کو بیروت سے نکلنا پڑا۔

اس کے بعد پی ایل او کی اسرائیل کے خلاف لبنان سے کارروائیاں تو ختم ہو گئیں لیکن بیروت میں اسرائیل کے زیرِ انتظام دو پناہ گزین کیمپوں صابرہ اور شتیلہ میں لبنان کی عیسائی ملیشیا کے ہاتھوں سینکڑوں فلسطینیوں کا قتلِ ہوا۔

1982 میں اسرائیل کے ایک تحقیقاتی ٹرائیبیونل نے ایریئل شیرون کو ذاتی طور پر ان ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹھہرایا اور انہیں 1983 میں اس وجہ سے اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔

بہت سے سیاست دانوں کے لیے اس کا مطلب سیاسی اقتدار کا خاتمہ ہوتا۔ لیکن شیرون کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ وہ دائیں بازوں سے تعلق رکھنے والے اسرائیلیوں میں اتنے ہی مقبول رہے جتنے پہلے تھے۔

آباد کاروں کی مزاحمت
آباد کاروں نے شیرون کے بستیوں سے انخلاء کی شدید مخالفت کی

1990 کی دہائی میں انہوں نے غزہ اور غربِ اردن میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ 1967 کے بعد فلسطینی علاقوں میں سب سے بڑی بستیاں تعمیر کی گئی تھیں۔

1996 میں نیتنیاہو کا دائیں بازو کا اتحاد برسرِاقتدار آیا اور شیرون کو اس میں شامل کیا گیا۔

1998 میں شیرون کو وزیرِ خارجہ مقرر کیا گیا۔ 1999 کے عام انتخابات میں نیتنیاہو کی شکست کے بعد شیرون لیکود جماعت کے سربراہ بن گئے۔

سن 2000 میں انہوں نے مسجدِ الاقصیٰ کا متنازعہ دورہ کیا جس کے بعد دوسری مرتبہ فلسطینی انتفادہ کے شعلے بھڑک اٹھے۔

ناقدین کا خیال ہے کہ شیرون کو معلوم تھا کہ تشدد بڑھے گا اور اسرائیلی عوام ان جیسے سخت گیر موقف رکھنے والے رہنما کی طرف آئیں گے کہ وہ اسے سنبھالیں۔

چھ فروری 2001 کو شیرون واضح اکثریت سے انتخابات جیت گئے۔

ایریئل شیرون نے اسرائیلی علاقوں میں فلسطینی خود کش بمباروں کے حملوں کو روکنے کے لیے غربِ اردن میں متنازعہ فصیلیں تعمیر کرنے کا بھی فیصلہ کیا جس کی وجہ سے انہیں عالمی طور پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم وہ غزہ اور شمالی غربِ اردن سے اسرائیلی آباد کاروں کے انخلاء کے فیصلے پر قائم رہے اور بالآخر اسرائیلیوں کی شدید مخالفت کے باوجود انہوں نے انخلاء مکمل کیا۔

سن 2005 میں لیکود جماعت میں بڑھتی ہوئی مخالفت کے پیشِ نظر شیرون اس سے علیحدہ ہو گئے اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ ملک کر ایک نئی جماعت قدیما کی بنیاد دکھی۔

ایرل شیرونشیرون کی نئی پارٹی
شیرون نے اپنی نئی پارٹی کا نام طے کر لیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظز ایریل شیروں شیرون کا نحس حصہ
شیرون اور ان کے بیٹے کا نام نحس؟
اسی بارے میں
غرب اردن، انخلاء مکمل
23 August, 2005 | آس پاس
شیرون عباس سے مطمئن ہیں
27 January, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد