شیرون کے دماغ کی شریان پھٹ گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی وزیر اعظم ایریئل شیرون دماغ کی شریان پھٹنے کے بعد ہسپتال میں بے ہوشی کی حالت میں ہیں۔ یروشلم میں ہسپتال کے حکام کے مطابق شیرون بے ہوش ہیں اور انہیں مصنوعی تنفس دیا جارہا ہے۔ اسرائیل کے ایک حکومتی ترجمان نے کہا ہے کہ بطور وزیر اعظم ایریئل شیرون کے اختیارات ان کے نائب احد المرٹ کو منتقل کردیے گئے ہیں۔ شیرون کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ان کی طبیعت اس وقت بگڑی جب وہ صحرا نیگیو میں اپنی آرام گاہ میں تھے جس کے بعد انہیں فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا۔ ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ شیرون کو سانس لینے میں دشواری ہورہی ہے۔ ایریئل شیرون کو دل کے سوراخ کے علاج کے لیے جمعرات کو ہسپتال جانا تھا تاہم اس سے پہلے ہی ان کی طبیعت بگڑ گئی اور انہیں پہلے ہی ہسپتال لے جانا پڑا ہے۔ گزشتہ دسمبر کے آخری عشرے میں وہ دل کے دورے کے بعد کچھ دن ہسپتال میں رہ چکے ہیں۔ تاہم بعد میں انہوں نے دوبارہ سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں۔ ایک پریس کانفرنس میں شیرون کے ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ دل کے سوراخ میں خون جمع ہونے کے باعث دماغ کو خون پہنچانے والی شریان بند ہوگئی تھی۔ ڈاکٹروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ دل کا دورہ معمولی نوعیت کا تھا جس سے ان کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا ہے۔ ستتر سالہ اسرائیلی رہنما کی خرابی صحت حکومتی حلقوں کے لیے فکر کا باعث ہے۔ ڈاکٹروں نےشیرون کو غذہ کا سخت پرہیز بتایا ہے۔ پچھلے دورے کے بعد کئی گھنٹوں تک ایریئل شیرون کی بولنے کی قوت متاثر رہی تھی۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے گزشتہ ماہ لیکود پارٹی چھوڑ کر ایک نئی جماعت ’قادیمہ’ تشکیل دی ہے۔ اب لیکود پارٹی کی سربراہی شیرون کے حریف بنیامن ناتنیاہو کے پاس ہے۔ شیرون سن دو ہزار ایک سے اسرائیل کے وزیر اعظم ہیں۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||