BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 August, 2005, 06:29 GMT 11:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غرب اردن، انخلاء مکمل
ہمیش
شانور اور ہمیش میں فوج کو زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا
اسرائیلی فوجیوں نےغرب ِاردن سے یہودی آباد کاروں کے انخلاء کا عمل مکمل کر لیا ہے۔

شانور اور حمیش نامی بستیوں سے جانے والے آخری افراد میں انخلاء کے مخالف احتجاجی شامل تھے۔

اس سے قبل آج صبح غزہ سے انخلاء کی تکمیل کے بعد اسرائیلی فوج مغربی کنارے کے شمالی حصے میں واقع دو یہودی بستیوں میں داخل ہوگئی تھی اور وہاں موجود آباد کاروں کو علاقے سے باہر نکالنا شروع کر دیا تھا۔

اسرائیلی فوج کو ان دونوں بستیوں میں داخلے کے وقت زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اس سے قبل کہا جا رہا تھا کہ شانور میں دو ہزار کے قریب یہودی قوم پرستوں نے دھرنا دیا ہوا ہے جبکہ کچھ مسلح قوم پرست دوسری بستی حمیش میں بھی موجود ہیں اور وہ انخلاء کے عمل میں مزاحم ہو سکتے ہیں۔

اسرائیلی فوجیوں نے حمیش کے گرد موجود خاردار تار ہٹانے کے لیے بلڈوزر استعمال کیے۔ صبح ہوتے ہی شانور میں آبادکاروں نے سڑکوں پر ٹائر جلانے شروع کر دیے تھے تاہم ایک گھنٹے بعد ہی غیر مسلح پولیس اہلکار داخلی دروازوں پر نصب تاریں کاٹ کر بستی میں داخل ہو گئے۔

فوجیوں نے شانور میں موجود آباد کاروں کو بسوں کے ذریعے علاقے سے روانہ کرنا شروع کردیا تھا۔ غزہ کی اکیس یہودی بستیوں کے بعد اب مغربی کنارے کی چار بستیاں خالی کروائی جا رہی ہیں۔ یہ 1967 کے بعد پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے یہ علاقہ خالی کیا ہو۔

غزہ آپریشن میں استعمال کیے گئے ہزاروں اسرائیلی فوجیوں کو اب مغربی کنارے کے علاقے میں بھیج دیا گیا تھا جہاں پر امکان تھا کہ انخلاء کے دوران مسلح مزاحمت کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی جانب سے کہا جا رہا تھا کہ ان بستیوں میں موجود افراد مسلح ہو سکتے ہیں اور وہ جبری انخلاء کی صورت میں پر تشدد کارروائیاں کر سکتے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے یہ بھی کہا تھا کہ ان بستیوں کو خالی کروانے میں مسلح فوجیوں کی مدد بھی لی جا سکتی ہے۔

دریں اثناء غزہ میں یہودی بستیوں کے مکمل انخلاء کے چند گھنٹے بعد اسرائیلی وزیرِاعظم ایریئل شیرون اور فلسطینی رہنما محمود عباس نے ٹیلیفون پر بات کی۔

اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات چیت کے دوران محمود عباس نے آباد کاروں کے انخلاء کو جرات مندانہ اور تاریخی قدم قرار دیا۔

امریکی صدر جارج بش نے بھی اسرائیلی وزیرِاعظم ایریئل شیرون کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیلی انخلاء ایک تاریخی قدم ہے جو وزیرِاعظم ایریئل شیرون کی جرات مندانہ قیادت کا عکاس ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد