غزہ انخلاء آخری مراحل میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیر کوغزہ کے علاقے سے آخری یہودی آباد کار کے نکل جانے کے ساتھ ہی علاقے سے انخلاء کا عمل مکمل ہو جائے گا۔ اسرائیلی سکیورٹی حکام کو نساریم نامی یہودی بستی سے آباد کاروں کے انخلاء کے موقع پر کسی بڑی مزاحمت کی توقع نہیں ہے۔ اس بستی کے افراد کے چلے جانے کے ساتھ ہی اس علاقے میں قائم اکیس بستیوں میں آباد غزہ کے آٹھ ہزار پانچ سو یہودی آباد کاروں کا انخلاء مکمل ہو جائے گا۔ اس انخلاء کے بعد توجہ مغربی کنارے کی جانب منتقل ہو جائے گی جہاں پر قائم چار یہودی بستیوں کے رہائشیوں کے انخلاء کے موقع پر پر تشدد کارروائیوں کا اندیشہ ہے۔ منگل کو شروع ہونے والے اس آپریشن سے قبل اسرائیل فوجی مغربی کنارے کے علاقے میں پہنچ رہے ہیں۔ مغربی کنارے کی دو بستیوں کے رہائیشی پہلے ہی علاقہ خالی کر چکے ہیں تاہم اب بھی دو ہزار افراد ایسے ہیں جو کہ سنور اور ہمیش نامی بستیوں میں موجود ہیں اور اس انخلاء کے موقع پر ان کی جانب سے شدید مزاحمت کا خدشہ ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیلی فوجی حکام کا خیال ہے کہ ان احتجاجی آباد کاروں میں سے کچھ مسلح بھی ہیں اور وہ ان ہتھیاروں کو استعمال کرنے کے لیےتیار ہیں۔ اسرائیلی خفیہ ادارے کے سابق سربراہ امی ایلون کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے کے دو لاکھ تیس ہزار آباد کاروں میں سے آٹھ فیصد لوگ خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’ ان افراد کی کوئی حد نہیں اور یہ تشدد سمیت کوئی بھی حربہ استعمال کر سکتے ہیں‘۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان بستیوں سے آبادکاروں کے انخلاء کے لیے مسلح فوجیوں کا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ غزہ سے انخلاء کے عمل میں غیر مسلح فوجیوں کی مدد لی گئی ہے۔ اسرائیل کے وزیراعظم ایریئل شیرون نے ان فوجیوں سے بھی ملاقات کی ہے جو اس انخلاء کے عمل میں شریک ہیں۔ شیرون نے ایک فوجی اڈے پر ان فوجیوں سے خطاب کے دوران کہا کہ ’ آپ نے یہ کام سرانجام انتہائی احسن طریقے سے سر انجام دیا ہے۔ یہ کام نہ صرف ان لوگوں کے لیے بلکہ آپ کے لیے بھی بہت مشکل تھا اور میں آپ کا شکر گزار ہوں‘۔ غزہ سے آبادکاروں کے انخلاء کے عمل کے آخری مراحل میں پہنچنے کے بعد اسرائیلی بلڈوزروں نے غزہ کی خالی کی جانے والی چار یہودی بستیوں میں تعمیر گھروں کو گرانا شروع کر دیا ہے۔ گھروں کی تباہی کا یہ کام فلسطینی انتظامیہ اور اسرائیل کے درمیان ایک سمجھوتے کے نتیجے میں کیا جا رہا ہے اور یہ کام کئی ہفتے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ فلسطینی انتظامیہ ان علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد یہاں ایسی عمارتیں تعمیر کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے جہاں زیادہ آبادی رہائش پذیر ہو سکے۔ اسرائیلی فوجی غزہ کا علاقہ فوجی اڈوں اور تنصیبات کے گرائے جانے کے بعد اندازاً ایک ماہ کے اندر خالی کر دیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||