’انخلا اسرائیل کے مفاد میں ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی وزیراعظم ایرئیل شیرون نے کہا ہے کہ غزہ سے انخلاء ایک تلخ تجربہ ہے لیکن اسرائیل کے محفوظ مستقبل کے لئے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔ ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے مسٹر شیرون نے کہا کہ اسرائیل غزہ پر ہمیشہ کے لئے قبضہ نہیں رکھ سکتا اور یہ کہ جن لوگوں کو علاقہ خالی کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے ان کی بھر پور مدد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب فلسطینیوں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ بھی امن چاہتے ہیں اور اگر انہوں نے ایسا کیا تو اسرائیل بھی اس کا مثبت جواب دے گا۔ اسرائیلی حکام نے یہ علاقے خالی کروانے کے لئے وہاں مقیم لوگوں کو نوٹس جاری کردئیے ہیں۔ اب نو ہزار آبادکاروں کو منگل کی رات بارہ بجے تک غزہ کی اکیس اور غرب اردن کی چار یہودی بستیوں کو خالی کرنا ہوگا ورنہ انہیں زبردستی بے دخل کیا جائے گا۔ مسٹر شیرون نے کہا کہ غزہ میں دس لاکھ فلسطینی رہتے ہیں اور ہر ایک نسل کے بعد ان کی تعداد دوگنی ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی غربت اور مفلسی کی حالت میں پناہ گزین کیمپوں میں رہتے ہیں جہاں ان میں نفرت پنپتی ہے اور انہیں مستقبل کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لئے یہی سب سے بہتر راستہ تھا۔ انہوں نے اسرائیلیوں سے کہا کہ وہ ان پر اعتماد کریں۔ مسٹر شیرون نے فلسطین کو خبردار بھی کیا کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی صورت میں اسرائیل سخت ترین جوابی کارروائی کرے گا۔ غزہ کے ساڑھے آٹھ ہزار یہودی آباد کاروں میں سے آدھے علاقہ خالی کرچکے ہیں جبکہ باقی افراد کے ساتھ وہ مظاہرین بھی شامل ہوگئے ہیں جو اس اقدام کے خلاف ہیں۔ فلسطینی رہنما محمود عباس نے اس اقدام کو تاریخی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کو غرب اردن سے بھی نکل جانا چاہئیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||