فلسطینی دھڑے فائربندی پر متفق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی حکمران جماعت الفتح اور شدت پسند تنظیم حماس شمالی غزہ میں اپنے حامیوں کے درمیان جاری جھڑپوں کو ختم کرنے پر متفق ہوگئے ہیں۔ دونوں گروپوں کے رہنماؤں نے غزہ میں منگل کی رات دیر گئے ایک اخباری بریفینگ میں اس سمجھوتے کا اعلان کیا۔ حماس اور الفتح کے حامیوں کے درمیان جاری جھڑپوں میں دو افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوچکے ہیں۔ یہ جھرپیں حماس کی طرف سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کے بعد فلسطینی سیکورٹی اہلکاروں کی کارروائی کے بعد شروع ہوئیں تھیں۔ ’دونوں گروپوں نے جھڑپوں کو روکنے اور علاقے میں ہر طرح کا تشدد اور مسلح موجودگی کوختم کرنے اور کسی بھی ایسے مسلے کو جو دونوں کے درمیان کشیدگی کا باعث بنے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘ یہ اعلان غزہ میں حماس کے ایک سینئیر رہنما اور فلسطینی کابینہ کے وزیر سفیان ابوزیدہ نے کیا۔ حماس کے ایک مقامی رہنما میزار ریان نے بتایا ہے کہ انہوں نے شمالی غزہ سے تمام فورسز ہٹانے کا فیصلہ اس لئے کیا ہے کہ فلسطینی اپنے دشمن کے خلاف آپس میں اتحاد قائم رکھیں۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس کشیدگی کی وجہ فلسطینی انتظامیہ کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ طے شدہ سیزفائر کو قائم رکھنا ہے۔ حماس نے حال میں اسرائیل کے خلاف ایک سو سے زیادہ راکٹ حملے کئے ہیں اور اسرائیل نے غزہ کے بارڈر پر اپنی فوج بلالی ہے اور دھمکی دی ہے کہ اور علاقے میں گھس کر کارروائی بھی کرسکتے ہیں۔ حماس کا کہنا ہےکہ کہ ایک غیر سرکاری فائر بندی پر قائم ہیں لیکن اپنا دفاع کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||