آبادکاروں کےانخلا کیخلاف احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ سے یہودی آبادکاروں کے مجوزہ انخلا سے چھ روز پہلے، تل ابیب میں ہزاروں افراد نے اس منصوبے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین ، جو علامتی طور ہر احتجاجً نارنجی رنگ کے لباس میں ملبوس تھے، تل ابیب میں رابن سکوائر میں اکھٹے ہوئے جہاں کئی مقررین نے مجوزہ منصوبے کی مخالفت میں تقریریں کیں۔ اس منصوبے کے مخالفین نے حالیہ دنوں میں اپنی احتجاجی تحریک کو تیز کردیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ وہ اس پر عمل درآمد نہیں ہونے دیں گے۔ اس منصوبے کے تحت چھ روز کے بعد غرب اردن اور غزہ سے یہودی آباد کاروں کو باہر نکال دیا جائے گا۔ اس منصوبے پر عمل درآمد سے پہلے یہ اس کے مخالفین کی طرف سے آحری بڑی کوشش تھی۔ رابن سکوائر میں ہزاروں مظاہرین نے پلے کارڈ اور بینر اٹھائے ہوئے تھے جن کی وجہ سے پورا علاقہ نارنجی رنگ کے سمندر کا منظر پیش کررہا تھا۔ اس موقع پر آباد کاروں کی تحریک کے حامیوں کو ایسے پمفلٹ بھی تقسیم کئے گئے جن پر ہدایات دی گئیں تھیں کہ اس منصوبے پر عمل درآمد کو روکنے کے لئے انہیں کہاں پہنچنا چاہئیے۔ یہ مظاہرہ ہزاروں قدامت پسند یہودیوں کی طرف سے دیوارِ گریہ پر مجوزہ منصوبے کے خلاف اجتماعی دعا کرنے کے ایک روز بعد ہوا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||