غزہ سے یہودی انخلاء پر جشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطین اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے فلسطین سے اسرائیل کی فوج کے کامیاب انخلاء پر اظہار تشکر کے لیےنماز جمعہ غزہ شہر کی ایک مسجد میں ادا کی ۔ اس موقع پر اڑتیس سال سے جاری اسرائیل کی فوج اور آبادکاروں کے مظالم اور ان کے ہاتھوں فلسطینیوں کی شہادتوں کو بھی یاد کیا گیا۔ غزہ کے سیاسی گروپوں نے زیادہ اعتماد کا مظاہرہ کیا ہے۔ ساحل پر فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے جشن کا آغاز مارچ اور تقریبات سے ہوا جس میں غزہ کی مختلف تنظیمیں بھی شریک رہیں۔ غزہ میں پارلیمان کی عمارت کو فنکاروں نے سجایا ۔ابر جبلیہ پناہ گزین کیمپ پر ہوا میں ایک رنگا رنگ غبارہ بھی موجود تھا۔ ایسے میں جب غزہ سے یہودیوں کےانخلاء کو حقیقت کے طور پر لیا جارہا ہے، وہاں اس بات پر بھی توجہ مرکوز رہی ہے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ کئی لوگوں کاخیال ہے کہ گو کہ اسرائیلی آبادکار غزہ سے نکل گئے ہیں لیکن علاقے کی بری، بحری اور فضائی سرحدوں پر اسرائیلی پابندیوں کی موجودگی میں غزہ کی معیشت کے بہتر ہونے کا امکانات کم ہی ہیں۔ اقوام متحدہ کےمطابق غزہ میں دو تہائی فلسطینی خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور انخلاء کے معاشی فوائد کے بغیر فلسطینی انتظامیہ کے لیے کچھ بھی حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس کے نتیجے میں غزہ کے سیاسی گروپوں میں لڑائی بھی چھڑ سکتی ہے اوراس چیز سے بچنے کے لیے فلسطینی انتظامیہ نے تمام گروپوں کو مل کر کام کرنے کی دعوت دی ہے۔ اب کئی روز تک انخلاء کے مناظر دیکھنے کے بعد خود فلسطینی رہنما محمود عباس بھی دنیا کو یہ دکھانا چاہیں گے کہ وہ اپنے لوگوں کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||