اسرائیل: 4 کا قاتل ہجوم سے ماراگیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک اسرائیلی فوجی نے مسافر بس پر فائرنگ کر کے چار اسرائیلی عربوں کو ہلاک کر دیا۔ اس فائرنگ کے بعد ہجوم نے اس شحص پر حملہ کر کے اسے مار ڈالا۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ لوگوں نے اس وقت اس فوجی پر حملہ کیا جب وہ فائرنگ کے بعد اپنی بندوق کو پھر سے لوڈ کرنے لگا تھا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس شخص نے شمالی قصبے شفارام کے قریب مسافر بس کے اندر یہ فائرنگ کی۔ ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ یہ شخص وردی میں ملبوس تھا اور اس نے سر پر ایک یہودی مذھبی ٹوپی پہن رکھی تھی اور وہ بس کے ڈرایئور سے بات کر رہا تھا جب اس نے اچانک فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سے کچھ کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس فوجی کو گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن ہجوم نے اس کا گھیراؤ کر لیا اور اسے مارنے لگ گئے۔ تاہم شفارام کے لوگوں نے پولیس پر جانب داری کا الزام لگایا اور کہا کہ اگر اس طرح ایک عرب یہودیوں کو قتل کرتا تو پولیس اسے فوراً ہلاک کر دیتی۔ ان کا کہنا تھا ’پولیس پہنچ گئئ لیکن وہ کچھ نہیں کر رہی تھی۔‘ اسرائیل کے عرب رکنِ پارلیمان محمد باراکہ نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے چار افراد اسرائیلی عرب تھے اور سب شفارام کے رہنے والے تھے۔ اسرائیلی فوج نے بتایا ہے کہ یہ شخص انیس سالہ فوجی تھا جس کا تعلق غرب اردن کی ایک آبادی سے تھا۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ یہ شخص ایک انتہا پسند یہودی جماعت کا رکن تھا اور پچھلے کئی روز سے بغیر چھٹی فوج سے غیر حاضر تھا۔ کچھ اطلاعات کے مطابق وہ غزہ سے اسرائیلی فوج کی اس مہینے واپسی کے خلاف تھا اور اسی لیے احتجاجاً فوج چھوڑ چکا تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم ایرئل شیرون نے اس واقعے کی مزمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ’خونی دہشت گرد‘ کی حرکت تھی۔ اسرائیلی پولیس کے سربراہ نے لوگوں سے امن کی اپیل کی ہے اور علاقے میں مزیاد دو ہزار پولیس افسران بھیج دیے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||