غزہ سے یہودی انخلا شروع ہو گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق غزہ میں یہودی بستیوں سے باقاعدہ انخلاء شروع ہو گیا ہے۔ س سے پہلے کی اطلات میں بتایا گیا تھا کہ غزہ کی پٹی میں بسنے والےاسرائیلی آباد کار خود کو انخلا کےعمل کے لیے تیار کر رہے ہیں کیونکہ طے کردہ نظام الاوقات کےمطابق غزہ سے یہودیوں کےانخلا کےعمل کا باضابطہ آغاز پیر سے شروع ہو جائےگا۔ بہت سے لوگوں نے اپنا سامان سمیٹنا اور اسرائیل میں واقع عارضی گھروں میں منتقل ہونے کا سفر شروع کر دیا ہے۔ ان میں سے اکثر کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت یہاں سے جائیں گے جب اسرائیل کے فوجی انہیں وہاں سے نکالنے کا مطالبہ کریں گے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ کفار داروم سیٹلمنٹ کے قریب فلسطینیوں کے ساتھ فائرنگ کےتبادلے کے دوران میں ایک بکتر بند سے اسرائیلی ٹینک پر گولہ داغا گیا۔ جس سے پانچ اسرائیلی فوجی زخمی ہو گئے۔ انخلا کے دوران فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز اور اسرائیل کے فوجی دستوں کے ہزاروں ارکان نے اپنی اپنی مقررہ جگہیں سنبھال لی ہیں۔ مخالفین اس انخلا سے بچنے کے لیے یروشلم میں واقع مقدس مغربی دیوار کے پاس جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
غزہ کے دونوں اطراف ہائی الرٹ کا اعلان کر دیا گیا ہے کیونکہ انخلا کے دوران فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے اسرائیل کی فوج اور یہودی آبادیوں پر حملوں کا خدشہ ہے۔ اس انخلا کے مخالف نو ہزار یہودی آبادکاروں میں مزید لوگوں کی شمولیت کو روکنےکے لیے اسرائیل نے جگہ جگہ چیک پوسٹیں بھی قائم کردی ہیں۔ آبادکاروں کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ کچھ مقامات پر پچاس سے ساٹھ فیصد لوگ اس جگہ کو نہیں چھوڑیں گے۔ اسرائیل نے فلسطین سےمطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کے فوجی دستوں پر مزاحمت کاروں کی جانب سے حملے نہ ہونے کو یقینی بنائے۔ حماس کے رہنماؤں نے سنیچر کو غزہ شہر میں جلوس نکالا جس میں انہوں نے حماس کے رہنما اسمعیل ہنیہ کا کہنا ہے کہ حماس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ مزاحمتی تحریک کو فلسطین کی آزادی تک جاری رکھے گی۔ فلسطینی اتھارٹی نے ذرائع ابلاغ کے لیے چوبیسں گھنٹے کھلا رہنے والا ایک غزہ کے بعد مغربی اردن کے چارعلاقوں سے بھی یہودی آبادکاروں کےانخلا کا عمل جلد ہی شروع کردیا جائےگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||