اسلامک جہاد کے 10 ارکان گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی فوجیوں نےشمال مغربی کنارے کے علاقے میں چھاپوں کے دوران فلسطینی شدت پسند گروہ اسلامک جہاد کے دس اراکین کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان فلسطینیوں کو نابلس اور جنین کے قریب واقع دیہات سے دو مختلف کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا گیا۔ اسرائیلی فوج کی ترجمان نے بتایا ہے کہ ان چھاپوں کے دوران ایک ایم 16 خودکار رائفل بھی برآمد کی گئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے فروری میں ہونے والے معاہدے کے ٹوٹنے کے بعد حال ہی میں اسلامک جہاد کے خلاف کارروائیوں کا دوبارہ آغاز کیا ہے۔ اسلامک جہاد اور حماس نے اسرائیلی مفادات پر حملے نہ کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ تاہم یہ معاہدہ حال ہی میں ٹوٹ گیا اور شدت پسند گروہ اور اسرائیلی حکام ایک دوسرے کو اس معاہدے کے ٹوٹنے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ اسلامی جہاد نے معاہدے کے دوران اسرائیل میں ہونے والے دو خود کش حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔ اس گروہ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ غزہ سے اسرائیلی انخلاء کے دوران اسرائیل پر راکٹ حملے نہیں کریں گے۔ یاد رہے کہ جنین کے گردونواح میں واقع چار یہودی بستیوں کو خالی کرنا بھی غزہ سے اسرائیلی انخلاء کے منصوبے کا حصہ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||