BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 August, 2005, 09:50 GMT 14:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غزہ: فوج اور آباد کاروں میں تصادم
نیو دیکالیم،غزہ
نیو دیکالیم غزہ کی سب سے بڑی یہودی بستی ہے
غزہ کی سب سے بڑی یہودی بستی میں اسرائیلی فوج اور یہودی آبادکاروں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

اسرائیلی فوجیوں نے آرے کا استعمال کرتے ہوئے نیو دیکالیم نامی اس یہودی بستی کے داخلی دروازے کو کاٹا اور اس موقع پر اس کی ان مظاہرین سے جھڑپ بھی ہوئی جو وہاں دھرنا دیے بیٹھے تھے۔

اسرائیلی فوجی مظاہرین سے بات چیت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تا کہ تشدد سے بچا جا سکے۔ تاہم اسرائیلی وزیرِ دفاع شاعول موفاظ کا کہنا ہے کہ فوجی ہر صورت میں بے دخلی کے احکامات پر عملدرآمد کروائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم اس عمل کے دوران قانون کی پاسداری کا پورا خیال رکھیں گے تاہم جو لاقانونیت کا مظاہرہ کرے گا اس سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا‘۔

نیو دیکالیم میں موجود بی بی سی کے نمائندے رچرڈ مائرن کا کہنا ہے کہ بہت سے آباد کار ڈیڈ لائن کے خاتمے سے قبل ہی یہ جگہ چھوڑ کر جا رہے ہیں اور کچھ لوگوں کا سامان کنٹینروں اور ڈبوں میں بند ان کے گھروں کے باہر موجود ہے۔

غزہ کی یہودی بستیوں میں رہنے والے افراد کو علاقہ خالی کرنے کے لیے منگل کی رات بارہ بجے کا وقت دیا گیا ہے اور اس کے بعد رہ جانے والے افراد کو زبردستی بے دخل کر دیا جائے گا۔

یہودی آباد کاروں کی روانگی کے موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ آٹھ ہزار پانچ سو آباد کاروں میں سے زیادہ تر علاقہ چھوڑ کر جا چکے ہیں تاہم ابھی بھی وہاں ہزاروں یہودی موجود ہیں جنہیں بے دخلی کے نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔

ادھر ان یہودی بستیوں کے نزدیک واقع فلسطینی قصبے خان یونس میں شدت پسند گروہ حماس نے اس انخلاء کا جشن منانے کے لیے ایک جلوس نکالا۔ حماس نے اس انخلاء کو فتح سے تعبیر کیا ہے۔

حماس نے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ علاقے سے جانے والے آبادکاروں اور اسرائیلی فوجیوں پر حملے نہیں کرے گی۔

پیر کو فلسطینی رہنما محمود عباس نے اس انخلاء کو کو تاریخی قرار دیا تھا اور اسرائیل سے کہا تھا کہ وہ غرب اردن کے علاقے کو بھی خالی کر دے جس پر اسرائیلی وزیراعظم ایرئیل شیرون نےاسرائیلی ٹی وی پر اپنے خطاب میں کہا تھا کہ غزہ سے انخلاء ایک تلخ تجربہ ہے لیکن اسرائیل کے محفوظ مستقبل کے لیے یہ ایک ضروری قدم ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد