یہودی بستیوں کا انخلاء دوبارہ شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کی سیکورٹی فورسز غزہ سے یہودی بستیوں کو خالی کرانے کے کام کا اتوار کی صبح سے دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔ غزہ میں قائم یہودی بستیوں کے انخلاء کے کام کو جعمہ کی رات کو یہودی کے مقدس دن سبت کے شروع ہونے کے بعد روک دیا گیا تھا۔ سکیورٹی فورسز نے جمعہ کی شام تک اکیس میں سے سترہ بستیوں کو خالی کرلیا تھا۔ ہزاروں لوگوں کے زبردستی نکالے جانے کے بعد اب یہ بستیاں سنسان پڑی ہیں۔ دریں اثناء فلسطینی شدت پسند گروپ حماس نے کہا ہے کہ غزہ سے یہودی بستیوں کے خالی کیے جانے کے بعد بھی وہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خلاف مسلح جدوجہد جاری رکھیں گے۔ حماس نے کہا ہے کہ غزہ سے یہودی بستیوں کا انخلاء اس بات کا ثبوت ہے کہ فلسطینیوں کی مسلح جدوجہد کامیاب ہو رہی ہے۔ حماس نے کہا کہ وہ غرب اردن اور یروشلم سے بھی یہودیوں کے انخلا کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حماس کی طرف سے کسی بھی کارروائی کا اسرائیل فوراً جواب دے گا اور اس سے محمود عباس کی حمایت میں کمی واقع ہو گی۔ اس سے قبل محمود عباس نے اگلے سال جنوری کی پچیس تاریخ کو انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ حماس ان انتخابات میں امیدوار نامزد کرے گی اور توقع ہے کہ وہ ان انتخابات میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔ فلسطینی رہنما محمود عباس نے اعلان کیا ہے نيتساريم کی بستی کو غزہ کی بندگاہ کا حصہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے باقی بستیوں میں ہزاروں گھر بنائے جائیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||