BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 August, 2005, 01:36 GMT 06:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غرب اردن سےانخلاء کی تیاری
اسرائیلی آبادکار
اسرائیلی انخلاء ایک تاریخی قدم ہے: جارج بُش
غزہ میں یہودی بستیوں کے مکمل انخلاء کے چند گھنٹوں کے اندر اسرائیلی وزیر اعظم ایریئل شیرون اور فلسطینی صدر محمود عباس نے ٹیلیفون پر بات کی۔

غرب اردن کی دو بستیوں سے انخلاء کا عمل منگل کو شروع ہوگا۔

محمود عباس نے غزہ سے انخلاء کو ’بخوبی‘ انجام دینے پر ایریئل شیرون کی تعریف کی۔

دو مہینے سے اوپر ہوگۓ تھے کہ ان میں بات نہیں ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ محمود عباس نے بستیوں کے انخلاء کو جرات مندانہ اور تاریخی قرار دیا۔ اسرائیلی افسروں نے بتایا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے جلد بالمشافہ ملاقات پر بھی اتفاق کیا۔

امریکی صدر جارج بش نے وزیر اعظم ایریئل شیرون کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیلی انخلاء ایک تاریخی قدم ہے اور وزیر اعظم ایریئل شیرون کی جرات مندانہ قیادت کا عکاس ہے‘۔

دریں اثناء نتزاریم غزہ کی ان آبادیوں میں سے ہے جو اسرائیلی قبضے کے اوائل میں آباد کی گئی تھیں۔ تاہم اسے خالی کراتے ہوئے اسرائیلی پولیس اور فوج کو زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

آباد کار کچھ دیر کے لیے عبادت گاہ میں دعا کرتے رہے اور پھر نعرے لگاتے ہوئے بسوں میں بیٹھ کر وہاں سے چلے گئے۔

نتزاریم ان آبادیوں میں سے بھی ہے جو فلسطینیوں کے لیے سب سے ناپسندیدہ ہیں۔ انہیں ہمیشہ اس کی فصیلوں سے بندوق کے ذریعے دور رکھا گیا اور اس کے ارد گرد موجود فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کر دیا گیا تھا۔

غرب اردن سے انخلاء کا عمل منگل کو شروع ہوگا۔ اس کی دو بستیوں سے یہودی آبادکار پہلے ہی جا چکے ہیں تاہم دو دوسری بستیوں ہومیش اور سانور میں تقریباً دو ہزار افراد اکھٹے ہو گئے ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ انخلاء کی سختی سے مزاحمت کریں گے۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق یہ شدت پسند آباد کار انخلاء روکنے کے لیے تشدد پر اتر سکتے ہیں۔

اسرائیلی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مسلع فوجی تعینات کئے جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ غزہ سے انخلاء کے دوران سب فوجی غیر مسلع تھے۔ تاہم سانور میں بی بی سی کے نامہ نگار میتھیو پرائس کا کہنا ہے کہ آباد کاروں نے اپنے ہتھیار حکام کے حوالے کر دیئے ہیں لیکن کہا ہے کہ وہ انخلاء کی سختی سے مزاحمت کریں گے مگر تشدد کی کاروائی کے بغیر۔

ادھر غزہ کی خالی کرائی گئی بستیوں میں گھروں کو مسمار کیے جانے کا کام جاری ہے جو کئی ہفتے تک جاری رہ سکتا ہے۔ توقع ہے کہ اسرائیلی فوجی تقریباً ایک ماہ بعد یہ علاقہ خالی کر دیں جس کے بعد فلسطینی انتظامیہ اس کی ذمہ داری سنبھال لے گی ـ

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد