اسرائیلی انخلا، فلسطینی جشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ سے اسرائیلیوں کے انخلاء کی مہلت ختم ہو چکی ہے اور اسرائیلی فوج اور پولیس انخلاء کے حکم جبراً عملدرآمد کے لیے تیار ہے۔ دوسری طرف غزہ کی پٹی میں رہنے والے فلسطینی اسرائیلی قبضے کے خاتمہ پر خوشیاں منا رہے ہیں۔ اسرائیل فوج کی طرف انخلاء کے لیےہونے والی کارروائی کے ذمہ دار فوجی افسر نے صحافیوں کو بتایا کہ بدھ کی صبح طلوع آفتاب کے وقت فوجی کچھ بستیوں میں داخل ہو جائیں گے۔ خیال ہے کہ پچاس سے پچپن ہزار اسرائیلی فوجی اور پولیس اہلکار اس کارروائی میں حصہ لیں گے۔ اسرائیلی حکام نے منگل کی شام کو بتایا کہ غزہ کی پٹی میں نو ہزار میں سے آدھے سے زیادہ آبادکار بستایاں خالی کرنے کی اپیل پر عمل کرتے ہوئے واپس جا چکے ہیں۔ فلسطینی رد عمل خان یونس میں حماس کے زیر اہتمام ایک جلسے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلیوں کا انخلاء ان کی مسلح جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ حماس کے ایک اعلیٰ رہنما نے کہا کہ وہ غرب اردن میں بھی یہی حکمت عملی اپنائیں گے۔ حماس کبھی بھی اسرائیلی ریاست کے خاتمے کے بیان سے دستبردار نہیں ہوئی۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق حماس کی پالیسی فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے لیے پریشان کن ہو گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||