شیرون کابینہ، ایک اور وزیر مستعفی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل میں وزیر اعظم ایریئل شیرون کے غزہ سے یہودی آبادکاروں کے انخلاء کےمنصوبے پر احتجاج کرتے ہوئے ان کی کابینہ کے ایک اور وزیر ناتھن شرانسکی نے استعفی دے دیا ہے۔ شرانسکی نے اسرائیلی فوجی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک افسوسناک غلطی ہوگی اور اس کی بھاری قیمت ادا کرنے پڑے گی جس سے دہشت گردوں کی بھی حوصلہ افزائی ہوگی۔ غزہ اور غرب اردن کی چار بستیوں میں آباد آٹھ ہزار یہودیوں کا انخلاء اس سال جولائی اور اگست میں متوقع ہے۔ شرانسکی جو سابق سویت یونین کے منحرفین میں شامل ہیں، ایریئل شیرون کی کابینہ میں بیرون ملک اسرائیلوں کے امور کے وزیر تھے۔ یروشلم میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شرانسکی دائیں بازو کے سیاست دانوں کی فہرست میں ایک اور اضافہ ہیں جو ایریئل شیرون کے منصوبے پر احتجاج کرتے ہوئے ان کی کابینہ سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ تاہم شرانسکی کے مستعفی ہوجانے سے اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ ایریئل شیرون اپنا منصوبہ ترک کر دیں گے۔ ایریئل شیرون کی اپنی جماعت لکود پارٹی میں اختلافات کے باوجود وہ غزہ سے انخلاء کے منصوبے پر سختی سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||