پوتن اسرائیل کے تاریخی دورے پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے دورۂ اسرائیل کے آغاز میں روسی صدر موسے کتزیو سے ملاقات کی ہے۔ کریملن کے کسی رہنما کا اسرائیل کا یہ پہلا دورہ ہے۔ روس اور اسرائیل کے درمیان 1991 میں سفارتی تعلقات بحال ہوئے تھے۔ ولادیمیر پوتن جمعرات کو اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون سے بھی ملاقات کریں گے ۔ روسی صدر جمعہ کو فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے مذاکرات کریں گے اور فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی قبر پر پھول چڑھائیں گے۔ اسرائیل کے دورے کے دوران مسٹر پوتن کو اسرائیل کے حریف ملکوں شام اور ایران کے ساتھ روسی تعاون کے بارے میں سخت سوالوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اسرائیل روس کی جانب سےایران کے جوہری پروگرام کی حمایت اور شام کو میزائلوں کی فروخت پر ناخوش ہے ۔ان دونوں ملکوں پر دہشت گردی کی حمایت کرنے کا الزام ہے۔ روسی صدر پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ روس ایران کی مدد جاری رکھے گا کیونکہ اس کے خیال میں ایران کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شام کو میزائل کی فروخت سے اسرائیل کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ مسٹر پوتن مصر سے اسرائیل کے دورے پر پہنچے ہیں جہاں انہوں نے اس سال کے اواخر میں ماسکو میں مشرقِ وسطی میں قیام امن کے عمل پر ایک بین ا لاقوامی کانفرنس کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا ہے لیکن اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اس کے خلاف ہے۔ مسٹر شیرون کے مشیر آصف شارییو نے کہا کہ بین ا لاقوامی امن منصوبے میں کہا گیا ہے کہ فلسطین کی جانب سے شدت پسند گروپوں کو ختم کرنے کے بعد ہی کانفرنس طلب کی جا سکتی ہے۔ ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ صدر پو تن مشرقِ وسطی میں روس کا اثر بحال کرنا چاہتے ہیں۔ روس فلسطین اور اسرائیل کے تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے نقشہ راہ کی حمایت کرنے والے چار ممالک میں سے ایک ہے لیکن سرد جنگ کے زمانے کے بعد سے مشرقِ وسطی میں روس کا کوئی خاص اثر نہیں رہا۔ اس روڈ میپ کا مقصد اسرائیل کے ساتھ ساتھ ایک مستحکم اور آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔ بدھ کو مصر کے صدر حسنی مبارک کے ساتھ قاہرہ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا تھا کہ مشرقِ وسطی میں امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے بارے میں وہ متعلقہ رہنماؤں سے بات کریں گے۔ جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطی کے بارے میں بین ا لاقوامی کانفرنس کا وقت ابھی مناسب نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||