BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 September, 2004, 12:57 GMT 17:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پوتن: دہشتگردی مخالف لڑائی یا اقتدار پر کنٹرول؟

روس کے صدر ولادمیر پوتن
روس کے صدر ولادمیر پوتن
روس کے صدر ولادمیر پوتن نے کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’آنکھوں میں آنسو آئے بغیر نہ ہم بیسلان کے بارے میں بات کر سکتے ہیں نہ اس کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔‘

’لیکن حکومت محض آنسوؤں اور حوصلہ افزا بیانات سے کام نہیں چلا سکتی۔۔۔ ہم بظاہر دہشت کے خلاف کوئی عملی نتائج حاصل نہیں کر پائے۔ ہم دہشتگردی کی جڑ کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔‘

ولادمیر پوتن نے یہ بیان گورنروں اور درجنوں صوبوں اور جمہوریاؤں کے رہنماؤں کے ایک ہنگامی اجلاس میں دیا اور کہا کہ ماسکو کی طرف سے سخت اقدامات ہی ایسے عناصر کا قلع قمع کر سکتے ہیں جو ملک کو توڑنا چاہتے ہیں۔

ہنگامی اجلاس کے دوران لوگ توجہ اور سنجیدگی سے صدر پوتن کی تقریر سنتے رہے جس دوران صدر نے سیکیورٹی اور سیاسی اصلاحات سے متعلق تجاویز بھی پیش کیں۔

اگر روسی پارلیمان ان تجاویز کی منظور دے دیتی ہے تو یہ اجلاس میں آئے ہوئے رہنماؤں پر بھی اثر انداز ہوں گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ تمام لیڈر دوبارہ براہ راست منتخب ہو جائیں۔

News image
بیسلان میں ہلاک ہونے والوں کو گزشتہ ہفتے دفنایا گیا

ولادمیر پوتن نےکہا کہ کابینہ کے وزراء کی طرح دیگر اعلیٰ حکام کو بھی سربراہ مملکت کی طرف سے نامزد کیے جانے کے بعد ان کی منظوری مقامی سطح پر بھی ضروری ہو گی۔

صدر پوتن کی اس تجویز پر عمل کیے جانے کی صورت میں کریملن کا روس کی مقامی سیاست پر رسوخ ڈرامائی طور سے بڑھ جائے گا۔

یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ اگر صدر بش یہ اعلان کر دیں کہ امریکی ریاستوں کے گورنروں کا انتخاب عوام نہیں بلکہ وہ خود کریں گے۔ ایسی صورت حال میں آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ امریکہ میں کیا ہنگامہ برپا ہو سکتا ہے۔

لیکن روس امریکہ نہیں ہے اور صدر پوتن اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی نیچے سے اوپر کی طرف طاقت کی زنجیر کو مضبوط بنا کر ملک کو طاقتور بنانے کی بات کرتے رہے ہیں۔ ان کا یہ موقف ان کی صدارت کی اہم بات رہی ہے۔

صدر پوتن کے خیال میں سابق روسی صدر یلستن کے دور میں مختلف علاقوں کو بہت زیادہ خود مختاری دی گئی جس کے باعث ملک میں افراتفری اور لاقانونیت جیسے رجحانات میں اضافہ ہونے سے ملک کی اقتصادی صورت حال کمزور ہو گئی۔

News image
روسی شہریوں پر حملے کیے جاتے رہے ہیں

روس میں لبرل نظریات کے حامل عناصر کو خدشہ ہے کہ ملک آزادیِ اظہار اور کثیر النسلی معاشرے سے دور ہوتا جا رہا ہے اور ایسی حالت میں صدر پوتن کی نئی تجاویز بھی اسی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ روسی صدر جمہوریت کی بجائے حکومتی کنٹرول کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔

تاہم یہ تجاویز قانونی شکل اختیار کرتی ہیں یا نہیں اس کے لیے ابھی بہت سے مراحل طےکرنا باقی ہیں البتہ اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا نئی تجاویز دہشتگردی کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی یا نہیں؟

ایسے وقت میں کہ جب دہشتگردی کی روک تھام بیشتر روسیوں کی اولین ترجیح ہے، روسی صدر پر دباؤ ہے کہ وہ وسیع تر بنیادوں پر سوچیں اور ریڈیکل اقدامات کریں۔

صدر پوتن سے غیرمتفق لوگوں کے خیال میں حکومت میں اعلیٰ اہلکاروں کو زیادہ سیاسی کنٹرول ملنے سے ممکن ہے کہ روس کا نظم و نسق سنبھالنا دشوار ہو جائے۔ ایسی صورت میں روس میں افسر شاہی اور بدعنوانی بڑھ جائے گی اور ملک مضبوط ہونے کے بجائے کمزور ہو جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد