دکھ کی تصویر، تباہی کا منظر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس کے علاقے اوسٹیا کے سکول میں یرغمال ہونے والوں کے خاندان والوں کو سکول میں ہونے والے کشت و خون کے ایک دن بعد وہاں داخل ہونے دیا گیا ہے۔ سکول کے سانحے میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین اتوار سے شروع ہو رہی ہے۔ روسی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین سو تیس ہو گئی ہے جس میں تقریباً نصف تعداد بچوں کی ہے۔ جب بچوں کے والدین اور اہلِ خانہ سکول پہنچے تو زار زار رونے لگے۔ سکول کی عمارت کا ایک حصہ کھنڈر بن چکا ہے اور راکھ اور گولیوں کے خول ہر جگہ بکھرے ہوئے ہیں۔ کئی ایک تو بیچارے یہ بھی نہیں جانتے کہ ان کے لختِ جگر زندہ بھی کہ نہیں کیونکہ ابھی تک مرنے والوں کی حتمی لسٹ نہیں آئی۔ روسی حکام نے اب کہا ہے کہ بچوں کو یرغمال بنانے والے سب ہی افراد کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ان افراد کی تعداد چھبیس بتائی جاتی ہے۔ پہلے یہ خبریں تھیں کہ ان میں سے کچھ افراد کو پکڑ لیا گیا ہے۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے قوم سے خطاب میں کہا کہ ملک کو دہشت گردی کے خلاف ثابت قدم ہونا پڑے گا کیونکہ اس کا متبادل بلیک میل ہونا ہو گا۔ انہوں نے کہا بارڈر سکیورٹی کو بڑھانے اور قانون نافذ کرنے کے لیے نئے طریقے استعمال کرنے کی تجاویز دیں۔ گزشتہ روز روسی فوج نے اس سکول میں کارروائی کی تھی جس میں چیچن باغیوں نے کئی سو افراد کو یرغمال بنا رکھا تھا۔ اس کارروائی کے دوران چیچن باغیوں اور روسی فوجیوں کے علاوہ بہت سے بچوں سمیت بہت سے یرغمالی ہلاک ہو گئے تھے۔
اس سے قبل روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ اغوا کنندگان کے ساتھ لڑائی میں روس کے خصوصی دستوں کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے یہ بات اس سکول کے دورے کے دوران کہی جہاں اغواکاروں نے کئی سو افراد کو تین روز تک یرغمال بنائے رکھا۔ انہوں نے اس ہسپتال کا بھی دورہ کیا جہاں زیادہ تر زخمیوں کو رکھا گیا ہے۔ روسی افسروں نے دعویٰ کیا ہے کہ چیچن باغیوں کے ساتھ عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے کرائے کے فوجی بھی اغوا کی اس واردات میں شریک تھے۔ بیسلان کے دورے کے دوران روسی صدر نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کا محاصرہ ختم کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اس سے پہلے روس کی وفاقی سکیورٹی سروس کے علاقائی سربراہ نے بتایا تھا کہ سکول کے باہر موجود کمانڈوز کو اس وقت کارروائی کرنا پڑی جب اغوائیوں نے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے یرغمالیوں پر گولیاں چلانا شروع کر دی تھیں۔ مسٹر پوٹن نے شمالی اوسیٹیا کی سرحدیں فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیا جہاں سکیورٹی حکام محاصرے سے فرار ہونے والے اغوائیوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ سکول کے دورے کے دوران صدر پوتن نے مقامی حکام سے کہا کہ تمام روس آپ کے دکھ میں برابر کا شریک ہے۔ دریں اثنا ایمرجنسی عملہ اور ضروری سازوسامان لے کر دو روسی جہاز بیسلان پہنچ گئے ہیں تاکہ صورت حال سے نپٹنے کے لیے مقامی ایمرجنسی سروسز کا ہاتھ بٹایا جا سکے۔ بیسلان لائے جانے والے سازو سامان میں انتہائی نگہداشت کے کئی گشتی یونٹ بھی شامل ہیں جن کی مدد سے شدید زخمیوں کو ماسکو لے جایا جائے گا۔ دنیا بھر کے رہنماؤں نے اوسیٹیا میں سکول کے محاصرے کو ختم کرانے میں ہونے والی خونریزی کی شدید مذمت کی ہے۔ امریکی صدر جارج بش نے کہا کہ شمالی اوسیٹیا میں اتنے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہمیں ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ دہشت گرد مہذب اقوام کو زک پہنچانے کے لئے کہاں تک جا سکتے ہیں۔ یورپی یونین نے اظہار تعزیت کیا ہے لیکن ندرلینڈ کے وزیر خارجہ نے، جن کے ملک کے پاس یورپی یونین کی رواں صدارت ہے، کہا ہے کہ یورپی یونین ماسکو سے کہے گی کہ یہ وضاحت کرے کہ یہ سانحہ کیسے ہوا۔ چینی وزارت خارجہ نے اسے ظالمانہ واردات قرار دیا ہے۔ عالم عرب نے بھی اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||