BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 September, 2004, 21:18 GMT 02:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
200 ہلاک، 600زخمی،آپریشن ختم
ایک سو سے زائد افراد کے زخمی ہونے کا خدشہ ہے
ایک سو سے زائد افراد کے زخمی ہونے کا خدشہ ہے
روسی جمہوریۂ شمالی اوسٹیا کے سکول میں تین دن سے یرغمال بنائے جانیوالے سینکڑوں بچوں اور بڑوں کو رہا کرانے کی فوجی کارروائی ختم ہو چکی ہے۔

کارروائی کی نگرانی کرنے والے روسی فوجی کمانڈر جنرل وکٹر سوبولوف کا کہنا ہے کہ محاصرہ حتم ہو چکا ہے اور بچوں اور بڑوں کو یرغمال بنائے جانے والوں کو یا تو گرفتار کر لیا گیا ہے یا وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس کارروائی کے دوران ہلاک ہونیوالوں کی تعداد دو سو سے زائد بتائی جارہی ہے اور آپریشن کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ سو کے لگ بھگ لاشیں سکول کے اندر سے برآمد کی گئی ہیں۔

اس کارروائی کے دوران لگ بھگ ساڑھے چھ سو سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن کو مختلف ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ زخمی ہونے والوں میں آدھے سے زیادہ تعداد بچوں کی بتائی جاتی ہے۔

ایک روسی خبررساں ادارے نے مقامی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ستائیس اغواکار اس وقت ہلاک ہو گئے جب فوج نے سکول میں داخل ہو کر کارروائی کی جبکہ مزید تین کو زندہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق چار اغواکار سکول سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے اور ان کا پیچھا کیا جا رہا ہے۔

حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ شدت پسندوں میں کرائے کے ایسے لڑاکا بھی شامل تھے جن کا تعلق عرب ملکوں سے محسوس ہوتا ہے۔

ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں بیشتر بچے ہیں۔ سکول شمالی اوسٹیا کے شہر بیسلان میں واقع ہے۔

اس سے پہلے ایک برطانوی ٹیلی وژن کے صحافی کا کہنا تھا کہ جب اس کا فوٹوگرافر عمارت کے اندر گیا تو اس نے ایک سو کے قریب لاشیں بکھری پڑی دیکھی۔ اس کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا کہ حملہ آوروں نے بم دھماکے کیے تھے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ روسی فوج نےبڑی تعداد میں لاشیں عمارت سے باہر نکالی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جمعہ کی شام تک ہلاک ہونیوالوں میں سے صرف ساٹھ لاشوں کی شناخت ممکن ہوسکی تھی۔ روسی خبررساں ادارے ایتار تاس کے مطابق زخمی بچوں کی تعداد دوسو ستائیس ہے اور مزید چار سو سے زائد افراد زخمی حالت میں ہسپتال میں لائےگئے ہیں۔

سینکڑوں بچے رہا ہوئے ہیں اور ان میں سے متعدد کی حال نازک بتائی گئی ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار سارہ رینزفورڈ کا کہنا تھا کہ کم سے کم ڈیڑھ سو بچوں کو علاج کے لئے ہسپتال لایا گیا ہے۔ روسی فوج نے سکول کے پاس ہی ہنگامی ہسپتال قائم کیا ہے اور سینکڑوں والدین پریشانی کی حالت میں اپنے عزیزوں کے بارے میں جاننے کے لیے بیقرار ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ طبی اہلکار زخمیوں کو ہسپتال کے اندر لے جارہے ہیں، جن میں بیشتر بچے ہیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عمارت سے باہر نکالے جانیوالے یرغمالیوں کی حالت بہت خراب تھی اور وہ پینے کا پانی مانگ رہے تھے، لڑکھڑا رہے تھے۔

حملہ آوروں نے سینکڑوں بچوں اور بڑوں کو بدھ کے روز سے سکول میں یرغمال بنایا ہوا تھا اور مطالبہ کررہے تھے کہ روس اپنی افواج چیچنیا سے ہٹا لے اور روسی جیل میں قید ان کے ساتھیوں کو رہا کرے۔

فوجی آپریشن کے آغاز کے بارے میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہناتھا کہ ایک شخص جو عمارت کے اندر گیا تھا اس نے بتایا کہ ایک دھماکہ ہوا تھا اور عمارت کی ایک دیوار گرگئی جس کے بعد فائرنگ ہوئی اور کئی دھماکے ہوئے۔

بعض اطلاعات کے مطابق روسی فوج نے عمارت کی چھت کو بھی اڑا دیا۔ ادھر روس کی فیڈرل سیکیورٹی سروس آر ایف ایس کے سربراہ نے بتایا ہے کہ حکام نے سکول پر فوجی آپریشن کرنے کا منصوبہ نہیں بنایا تھا۔

ان کا کہنا تھا روسی حکام حملہ آوروں سے مزید مذاکرات کا منصوبہ بنائے ہوئے تھے۔ آر ایف ایس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ فوج کو کارروائی اس لئے کرنی پڑی کیونکہ حملہ آوروں نے یرغمالیوں پر فائرنگ شروع کردی تھی۔انہوں نے کہا کہ یرغمالی فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے کیونکہ دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں۔

امریکہ نے شمالی اوسٹیا میں یرغمال بنانے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ’وحشیانہ فعل‘ قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت روس کے ساتھ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد