BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 September, 2004, 09:50 GMT 14:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سکول میں روسی فوج کا آپریشن‘
News image
یہ واضح نہیں کہ یرغمال افراد میں سے کتنے رہا ہوئے ہیں
روسی فوج نے شمالی اوسٹیا کے اس سکول میں کمانڈو کارروائی کی ہے جہاں بچوں سمیت کئی سو افراد دو روز سے یرغمال تھے۔

ایک روسی کمانڈر کا کہنا ہے کہ صورتِ حال روسی فوج کے قابو میں ہے اور یہ کہ زیادہ تر بچے محفوظ ہیں۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ کتنے لوگ سکول کی عمارت کے اندر ہیں۔ بظاہر ایسے لوگوں کی تعداد پانچ سو کے قریب تھی۔ سکول کی عمارت سے خون میں غلطاں کئی افراد بھاگتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔

ٹیلی وژن پر فوجیوں کو کئی بچوں کو سکول سے باہر لاتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔ ان میں سے کچھ بچے زخمی ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق ایک سو ساٹھ بچوں کو ہسپتال داخل کرا دیا گیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ فوجی زخمی بچوں کو عمارت سے نکال کر طبی امداد پہنچا رہے ہیں جبکہ بعض رہا ہونے والے بچوں کو کھلے آسمان کے نیچے پانی اور طبی امداد دی جا رہی ہے۔ زخمیوں کے لیے ہنگامی طور پر ایک ہسپتال قائم کیا گیا ہے۔

اب تک مسلح افراد اور فوجیوں کے درمیان فائرنگ جاری ہے اگرچہ اس میں کمی واقع ہوگئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق فوج نے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے کئی اغوا کاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ روسی حکام کے مطابق پانچ مسلح افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ بھاگتے ہوئے مسلح افراد ایک عمارت میں گھس گئے اور وہاں پر فائرنگ ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مسلح افراد جنوب کی طرف بھاگ گئے ہیں۔

سکول کی عمارت کے اوپر فوجی ہیلی کاپٹر پرواز کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے عمارت میں دو دھماکے بھی ہوئے تھے۔ جس کے بعد شدید فائرنگ شروع ہوگئی۔

اس سے پہلے ملنے والی خبروں کے مطابق اس سکول کی چھت گر گئی جہاں بچے یرغمال تھے ۔ بعض اطلاعات کے مطابق فوجیوں نے سکول کی ایک دیوار کو دھماکے سے اڑا دیا تھا تاکہ یرغمال لوگ باہر نکل سکیں۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ کچھ یرغمالی بچ نکلنے میں کامیاب بھی ہوگئے ہیں۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ تشدد کا آغاز کب اور کیسے ہوا لیکن اطلاعات کے مطابق یرغمال بچوں کا ایک گروہ سکول کی عمارت سے باہر نکل بھاگا اور دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس گروہ کے افراد کے جن میں بچے بھی شامل ہیں، سروں کے اوپر سے گولیاں گزر رہی تھیں۔

اس سے پہلے شمالی اوسٹیا کے صدر نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ بحران کے خاتمے کے لیے طاقت کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بچوں اور بڑوں کو یرغمال بنانے والوں کا مطالبہ ہے کہ چیچنیا کو آزادی دے دی جائے۔

اوسٹیا کے صدر کا کہنا تھا کہ روسی حکام کا اب یہ خیال ہے کہ لگ بھگ پانچ سو افراد یرغمال ہیں اگرچہ روسی میڈیا نے جمعرات کو رہا ہونے والوں کے حوالے سے کہا ہے کہ یرغمالیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد