BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 September, 2004, 01:52 GMT 06:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یرغمالیوں کی رہائی کے مذاکرات جاری
یرغمالیوں کی رشتہ دار
ایک فوجی رہا ہونے والے بچے کو باہر لے کر آ رہا ہے
روس میں اس سکول کا محاصرہ ختم کرانے کے لئے مذاکرات جاری ہیں جہاں کم سے کم ساڑھے تین سو یرغمالی اپنی دوسری رات گزاررہے ہیں۔

مذاکرات میں سرگرم عمل مصالحت کاروں کا کہنا ہے کہ وہ بات چیت کی تمام چینل کھلے رکھنا چاہتے ہیں۔ حکام نے وعدہ ہے کہ وہ یرغمالیوں کو چھڑانے کے لیے طاقت کا استعمال نہیں کریں گے۔

موقع پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ رہا ہونے والے یرغمالیوں کا کہنا ہے کہ مرد یرغمالیوں کو عورتوں سے علیحدہ رکھا جا رہا ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اغواکاروں کا مطالبہ کیا ہے۔

روس کے صدر ولادیمر پوتن نے کہا ہے کہ اوسیٹیا میں واقع سکول میں یرغمال چار سو کے قریب افراد کی جان بچانے کے لیے جو کچھ ممکن ہوا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ فوج طاقت کا استعمال کرنے سے گریز کرے گی۔

روسی صدر کے بیان کے بعد قریبی ریاست انگشتیا کے ایک سابق رہنما کی ثالثی کے نتیجے میں یرغمالیوں نے تیس عورتوں، بچوں اور شیرخوارں کو رہا کر دیا ہے۔

صدر پوتن کے بیان سے قبل ہی سے روسی حکام یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مسلح افراد سے بات چیت کر رہے ہیں۔

بدھ کے روز مردوں اور عورتوں پر مشتمل سترہ کے قریب حملہ آوروں نے مقامی سکول پر قبضہ کر کے بچوں، اساتذہ اور والدین کو یرغمال بنا لیا تھا۔

روس کی درخواست پر ہونے والے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں اس واقعے کی شدید مذمت کی گئی ہے اور حملہ آووروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ تمام یرغمالیوں کو فوراً رہا کر دیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے یرغمالیوں کی فوراً اور غیر مشروط رہائی کامطالبہ کیا ہے۔

امریکہ نے کہا کہ کوئی بھی مقصد بچوں اور اساتذہ کو یرغمال بنانے کا جواز نہیں ہو سکتا۔

امریکی صدر جارج بُش روس کے صدر ولا دیمیر پیوتن سے ٹیلی فون پر بات کی اور ہر طرح کی مدد کی پیشکش کی ہے۔

یرغمالیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انگوشتیا کی جیلوں میں قید چیچن جنگجوؤں کو رہا کیا جائے اور روس چیچنیا سے اپنی فوج واپس بلائے۔

بدھ کی صبح یہ واقعہ روس میں تعلیمی سال کے پہلے دن رونما ہوا جب بچے چھٹیوں کے بعد نئی کلاسوں میں آتے ہیں۔ یہ سکول ملک کے جنوب میں چیچینا کی سرحد کے قریب شمالی اوسیٹیا ریاست کے باسلان شہر میں واقعہ ہے۔

یہ واضح نہیں کے حملہ آور کون ہیں لیکن نامہ نگاروں کا کہنا ہے کارروائی کا انداز دیکھ کر ان پر چیچن ہونے کا گمان ہوتا ہے۔

لیکن باغی چیچن رہنما اسلان مشخادوف نے کہا ہے کہ ان کے لوگ اس کارروائی میں شامل ہیں۔

ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اطلاعات ہیں کہ حملہ آوروں نے روسی سکیورٹی حکام کی طرف سے کارروائی کے امکان کو روکنے کے لیے بچوں کو کھڑکیوں کے پاس قطار میں کھڑا کر دیا ہے۔

اوسیٹیا کے وزیرِ داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یرغمال بنانے والوں نے کہا ہے کہ اگر ان کا ایک شخص بھی مارا گیا تو وہ اس کے مقابلے میں پچاس بچے ہلاک کر دیں گے۔

بچوں کے والدین نے حملہ آووروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کو چھوڑ دیں۔ ایک عورت نے کہا: ’انہیں جانے دیں، ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں، انہیں اس کا موردِ الزام نہ ٹھہرائیں۔ بچوں کو چھوڑ دیں اور ہمیں پکڑ لیں‘۔

بچوں کے والدین ساری رات سکول کے باہر بیٹھے رہے اور امید کرتے رہے کہ بچوں کو رہا کر دیا جائے گا۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد