روسی یرغمالی بحران جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس کے ایک سکول میں بچوں سمیت دو سو سے لے کر چار سو افراد بد ستور یرغمالی ہیں اور ان کو مردوں اور عورتوں پر مشتمل سترہ حملہ آوروں نے مقامی سکول کے جمنیزیم میں بند کیا ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس واقعہ میں اب تک سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ روس ذرئع ابلاغ کے مطابق حکام یرغمالیوں سے رابطے میں ہیں۔ روس کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اجلاس میں واقعے کی مذمت کی اور اغوائیوں سے مطالبہ کیا وہ تمام یرغمالیوں کو فورا رہا کر دے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے یرغمالیوں کی فورا اور غیر مشروط پر رہا کرنے کامطالبہ کیا ہے۔ امریکہ نے کہا کہ کوئی بھی مقصد بچوں اور اساتذہ کو یرغمال بنانے کا جواز نہیں ہو سکتا۔ امریکی صدر جارج بُش روس کے صدر ولا دیمیر پیوتن سے ٹیلی فون پر بات کی اور مدد کی پیشکش کی۔ یرغمالیوں نے مطالبہ کیا ہےک جیلوں میں قید چیچن جنگجوؤں کو رہا کیا جائے اور روس چیچنیا سے اپنی فوج واپس بلائے۔ بدھ کی صبح یہ واقعہ روس میں تعلیمی سال کے پہلے دن رونما ہوا جب بچے چھٹیوں کے بعد نئی کلاسوں میں آتے ہیں۔ یہ سکول ملک کے جنوب میں چیچینا کی سرحد کے قریب شمالی اوسیٹیا ریاست کے باسلان شہر میں واقعہ ہے۔ یہ واضح نہیں کے حملہ آور کون ہیں لیکن نامہ نگاروں کا کہنا ہے کارروائی کا انداز دیکھ کر ان پر چیچن ہونے کا گمان ہوتا ہے۔ لیکن باغی چیچن رہنما اسلان مشخادوف نے کہا ہے کہ ان کے لوگ اس کارروائی میں شامل ہیں۔ ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اطلاعات ہیں کہ حملہ آوروں نے روسی سیکیورٹی حکام کی طرف سے کارروائی کے امکان کو روکنے کے لیے بچوں کو کھڑکیوں کے پاس قطار میں کھڑا کر دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||