’بچوں کے قاتلوں سے مذاکرات نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس کے صدر ولادیمر پوتن نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے کہ بیسلان میں ہونے والے سانحے کے بعد ضروری ہے کہ چیچنیا کے علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات شروع کیے جائیں۔ روسی صدر نے یہ مطالبہ بھی مسترد کر دیا ہے کہ جمعہ کو بیسلان کے سکول میں فوج کے خصوصی دستوں کی کارروائی کی عوامی سطح پر انکوائری ہونی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ روس کا چیچنیا کے علیحدگی پسندوں سے مذاکرات کا مطلب ایسا ہی ہے جیسے مغرب اسامہ بن دلان سے بات چیت شروع کر دے۔ دریں اثناء بیسلان میں جمعہ کو ہلاک ہونے والوں کی تدفین کا سلسلہ جاری ہے اور منگل کو دہشت گردی کے خلاف ہونے والی ایک ریلی میں توقع ہے کہ ہزاروں افراد شریک ہوں گے۔ برطانیہ کے دو اخباروں ’گارڈین‘ اور ’انڈیپینڈنٹ‘ نے لکھا ہے کہ صدر پوتن کا کہنا تھا کہ’ کسی کو بھی اخلاقی طور پر یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ہمیں بچوں کے قاتلوں سے مذاکرات کا مشورہ دے۔‘ ان کا کہنا تھا ’ آپ اسامہ بن لادن سے بات چیت کیوں نہیں شروع کر دیتے۔ اسامہ کو برسلز یا وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دیجیئے اور ان سے مذاکرات کیجیئے۔ ان سے پوچھیئے کہ انہیں کیا چاہیئے اوہ جو وہ مانگیں انہیں دے دیجیئے تاکہ وہ آپ کو امن سے رہنے دیں۔‘ اخباروں کے مطابق صدر پوتن نے یہ تو عندیہ دیا کہ بیسلان کے سانحے کی انکوائری ہوگی لیکن یہ واضح ہے کہ یہ پبلک انکوائری نہیں ہوگی۔ صدر کے اس بیان سے پہلے ہی سے روس میں بیسلان کے سکول پر شدت پسندوں کے قبضے اور روسی فوج کی کارروائی پر کافی تشویش پائی جاتی ہے۔ فرانس کے وزیرِ اعظم جین پیری ریفرن نے بھی روسی اخبارات میں شائع ہونے والے ان مطالبات کی حمایت کی ہے کہ حکومت ان خدشات پر ردِ عمل ظاہر کرے اور سوالوں کے جواب دے کہ سانحۂ بیسلان کا اثر سرکاری طور پر کم کر کے دکھایا اور بتایا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||