بلیک میل نہیں ہوں گے: پوتن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ تشدد کی کارروائیوں سےروس بلیک میل نہیں ہو گا کیونکہ اس طرح انتہا پسندوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ صدر ولادیمیر پوتن نے بیسلان کے واقعہ کے بعد اپنے نشری خطاب میں ’میرے لیے بات کرنا بھی مشکل ہے۔ ہماری زمین میں ہولناک حادثہ پیش آیا ہے۔ ’روس کے شہر بیسلان میں ہونے والے اس ہولناک حادثے کو ہم میں سے ہر ایک نے دل کی گہرائیوں سے محسوس کیا ہے اور ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ نہتے بچوں پر گولیاں چلیں‘۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ماضی میں حکومت نے ملک میں پیدا ہونے والی مشکلات اور پیچیدگیوں پر شائد اتنی توجہ نہیں دی جتنی کہ دی جانی چاہیے تھی۔یرغمالیوں کو رہا کرانے کے لیے روسی فوج کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ روسی عوام کی داخلی سکیورٹی پر بھی زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||