روس: مرنے والوں کی تعداد 330 ہوگئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس کے علاقے اوسٹیا میں ہلاک ہونے والے یرغمالیوں کی تعداد روسی حکام کے مطابق تین سو تیس ہو گئی ہے جس میں آدھے بچے ہیں۔ گزشتہ روز روسی فوج نے اس سکول میں کارروائی کی تھی جس میں چیچن باغیوں نے کئی سو افراد کو یرغمال بنا رکھا تھا۔ اس کارروائی کے دوران بہت چیین باغیوں اور روسی فوجیوں کے علاوہ بہت سے بچوں سمیت بہت سے یرغمالی ہلاک ہو گئے تھے۔ اس سے قبل روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ اغوا کنندگان کے ساتھ لڑائی میں روس کے خصوصی دستوں کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے یہ بات اس سکول کے دورے کے دوران کہی جہاں اغواکاروں نے کئی سو افراد کو تین روز تک یرغمال بنائے رکھا۔ انہوں نے اس ہسپتال کا بھی دورہ کیا جہاں زیادہ تر زخمیوں کو رکھا گیا ہے۔ روسی افسروں نے دعویٰ کیا ہے کہ چیچن باغیوں کے ساتھ عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے کرائے کے فوجی بھی اغوا کی اس واردات میں شریک تھے۔ بیسلان کے دورے کے دوران روسی صدر نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کا محاصرہ ختم کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اس سے پہلے روس کی وفاقی سکیورٹی سروس کے علاقائی سربراہ نے بتایا تھا کہ سکول کے باہر موجود کمانڈوز کو اس وقت کارروائی کرنا پڑی جب اغوائیوں نے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے یرغمالیوں پر گولیاں چلانا شروع کر دی تھیں۔ مسٹر پوٹن نے شمالی اوسیٹیا کی سرحدیں فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیا جہاں سکیورٹی حکام محاصرے سے فرار ہونے والے اغوائیوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ روسی خبر رساں ایجنسی نے مقامی افسروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ سکول کی عمارت پر دھاوے کے وقت ستائس اغوائی ہلاک کردیئے گئے تھے، تین کو پکڑ لیا گیا تھا اور چار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ابھی تک مفرور ہیں۔ سکول کے دورے کے دوران صدر پوٹن نے مقامی حکام سے کہا کہ تمام روس آپ کے دکھ میں برابر کا شریک ہے۔ دریں اثنا ایمرجنسی عملہ اور ضروری سازوسامان لے کر دو روسی جہاز بیسلان پہنچ گئے ہیں تاکہ صورت حال سے نپٹنے کے لیے مقامی ایمرجنسی سروسز کا ہاتھ بٹایا جا سکے۔ بیسلان لائے جانے والے سازو سامان میں انتہائی نگہداشت کے کئی گشتی یونٹ بھی شامل ہیں جن کی مدد سے شدید زخمیوں کو ماسکو لے جایا جائے گا۔ دنیا بھر کے رہنماؤں نے اوسیٹیا میں سکول کے محاصرے کو ختم کرانے میں ہونے والی خونریزی کی شدید مذمت کی ہے۔ امریکی صدر جارج بش نے کہا کہ شمالی اوسیٹیا میں اتنے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہمیں ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ دہشت گرد مہذب اقوام کو زک پہنچانے کے لئے کہاں تک جا سکتے ہیں۔ یورپی یونین نے اظہار تعزیت کیا ہے لیکن ندرلینڈ کے وزیر خارجہ نے، جن کے ملک کے پاس یورپی یونین کی رواں صدارت ہے، کہا ہے کہ یورپی یونین ماسکو سے کہے گی کہ یہ وضاحت کرے کہ یہ سانحہ کیسے ہوا۔ چینی وزارت خارجہ نے اسے ظالمانہ واردات قرار دیا ہے۔ عالم عرب نے بھی اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||