| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
روسی انتخابات: امریکی تشویش
امریکہ بھی یورپی ملکوں کے ان مبصرین میں شامل ہو گیا ہے جو روس کے پارلیمانی انتخابات کے منصفانہ ہونے پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان مبصرین کا کہنا ہے کہ روس میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کسی طرح بھی جمہوری روایات پر پورے نہیں اترتے۔ آرگنائزیشن فار سیکیورٹی اینڈ کوآپریشن ان یورپ کا کہنا ہے کہ انتخابات میں سرکاری ذرائع ابلاغ اور وسائل کو اس جماعت کے حق میں استعمال کیا گیا جو صدر پوتین کے حامی ہے۔ اس تنظیم کے صرف روس میں چار سو مبصرین ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ روسی انتخابات شفاف ہونے کے اعتبار سے کسی بھی عالمی معیار پورے نہیں اترتے۔ اتوار کر ملکمل ہونے والے انتخابات کے اب تک کے نتائج میں صدر پوتین کی حامی جماعت یونائیٹڈ رشیا کو کمیونسٹوں اور قوم پرستوں پر واضح برتری حاصل ہے۔ صدر ولایمیر پوتن نے ریاستی ڈوما کے انتخابات کو روس میں مضبوط جمہوریت کی طرف ایک اور قدم قرار دیا ہے۔ اب تک اٹھانوے فیصد ووٹ گنے جا چکے ہیں، صدر پوتن کی حامی یونائیٹڈ رشیا نے تقریبا سینتیس فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں۔ ان انتخابات میں اب تک دوسرے نمبر پر ولادیمیر زرنووسکی کی جماعت ’الٹرا نیشنلسٹ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی‘ رہی ہے جوکہ کمیونسٹ تیسرے نمبر پر ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر نتائج میں یہی رجحان رہا تو صدر پیوتن کے لیے یہ قدرے آسان ہوجائے گا کہ وہ اپنی اقتصادی اصلاحات نافذ کرسکیں اور آئندہ ماہ مارچ میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں بھی حصہ لیں۔ روس میں کمیونزم کے خاتمے کے بعد سے پارلیمان کے ایوان زیریں ’ڈوما‘ کے یہ چوتھے انتخابات ہیں جن میں تقریباً تیئس سیاسی جماعتوں کے امیدواروں نے پچاس نشستوں کے لیے انتخابات میں حصہ لیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||