BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 January, 2006, 08:51 GMT 13:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیل: شیرون کے بعد کیا ہوگا؟

اسرائیلی وزیر اعظم ایریئل شیرون
اسرائیلیوں کے لیے ان کا وزیراعظم ایک سیاسی دیوتا کی حیثیت رکھتا ہے
اسرائیلی وزیر اعظم ایریئل شیرون دماغ کی شریان پھٹنے کے بعد ہسپتال میں بے ہوشی کی حالت میں ہیں۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ وہ اپنی عمر کے آخری دنوں میں ہیں تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ اس وقت اسرائیل کے ساتھ فلسطین اور مشرق وسطی بھی تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔

اسرائیلیوں کے لیے ان کا وزیراعظم ایک سیاسی دیوتا کی حیثیت رکھتا ہے۔
شیرون اسرائیل بننے کے بعد سے ہی ملک کی سیاسی زندگی میں ایک اہم عنصر کے طور پر شامل رہے ہیں۔

شیرون ایک متنازعہ شخصیت رہے ہیں جسے انیس سو بیاسی میں بیروت کے گرونواح میں واقع مہاجرین کیمپوں میں عسیائی شرپسندوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کے بعد زبردستی حکومت سے باہر کر دیا گیا تھا۔ لیکن اس خطے میں وہی ایک ایسی شخصیت ہیں کہ جن کی بدولت فلسطین اور اسرائیل کے مابین امن کا خواب پورا ہوتا نظر آتا ہے۔

ان کے بعد اب مشکل وقت آپڑا ہے اور خدشات سر اٹھا رہے ہیں کہ اس خطے میں پچاس دہائیوں سے لگے زخموں سے رسنے والے خون کا سد باب کیاہو گا۔

شیرون نے ہمیشہ اسرائیل کے مفادات کو فوقیت دی اور اس بات کا خیال رکھا کہ اسرائیل کے لیے کیا بہتر ہے۔

ان کا مقصد مقبوضہ غرب اردن اور غزہ میں بڑے پیمانے پر یہودی بستیوں کی تعمیر تھا اور اپنے ان مقاصد کا انہوں نے ہر طریقے سے دفاع بھی کیا۔

اسرائیل کو جہاں اپنے پڑوسی ممالک سے حملے کا خطرے تھا تووہیں فلسطینی عربوں کی شکل میں ایک اور خطرہ اسرائیلی حکومت کے لیے تیار ہو رہا تھا اور یہ بات سامنے آرہی تھی کہ اگر اسرائیل ایک یہودی ریاست کے طور پر اس خطےمیں رہنا چاہتا ہے تو اسے کچھ علاقے چھوڑنا ہوں گے۔

غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلاء شیرون کی بطور وزیر اعظم ایک اہم پالیسی ہے اور اپنی اسی پالیسی کے تحت ایک علیحدہ سیاسی جماعت خادمیہ کی بنیاد رکھی۔

رائے عامہ کے جائزے بتاتے ہیں کہ مارچ میں ہونے والے انتخابات میں ان کی جماعت کامیابی حاصل کر لے گی۔

لیکود پارٹی کے سربراہ بنیامین نیتن یاہو

ان کا اگلا قدم کیا ہوتا شیرون اس بارے میں کوئی واضح بات نہیں کرتے رہے ہیں، وہ محتاط تھے لیکن ایک بات جو واضح ہے وہ کہ غرب اردن سے دوسرا بڑا فوجی انخلاء ہی ان کی اگلی پیش رفت ہوتی۔ یہی وہ نکتہ ہےکہ جس کے بارے میں ان کے بہت سے ووٹر امید کرتے رہے ہیں لیکن ان کے بغیر اس منصوبے پر عمل ممکن نہیں ہو سکےگا۔

یہ ان کی شخصیت کی طلسماتی طاقت اور سیاسی سوجھ بوجھ ہی تھی کہ جس کی بدولت انتہائی سخت مخالفت کے باوجود غزہ سے اسرائیلی فوجی کا انخلاء ہوا۔ غرب اردن سے فوجی انخلاء ہمیشہ ہی بڑا مشکل تصور کیا جاتا رہا ہے۔

اگر شیرون مارچ کے انتخابات میں حصہ نہیں لیتے ہیں تو قیاس ہے کہ لیکود پارٹی نئی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ بنیامین نیتن یاہو کی قیادت میں لیکود پارٹی فوجی انخلاء کا عمل روک دے گی۔

شیرون کی غزہ سے اسرائیلی انخلاء کی اس پالیسی پر فلسطینیوں کو یہ شکایت رہی ہے کہ اس بارے ان سے مشورہ نہیں کیا گیا تاہم اس وقت فلسطین کی سیاسی قیادت انتشار کا شکار ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسلامی شدت پسند جماعت حماس فلسطین اتھارٹی میں ہونے والے انتخابات میں کامیاب ہوجائے گی۔

فلسطین اور اسرائیل کی حالیہ سیاسی صورت حال عالمی برداری اور ان عرب ریاستوں کے لیے خطرے کا عندیہ ہے جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پردستخط کر رکھے ہیں۔

ایریئل شیرونایریئل شیرون
اسرائیلی رہنما نے جو بھی چاہا وہ کیا
شیرون، قریع شیرون، قریع ملاقات
مشرق وسطٰی کے رہنماؤں کی پہلی میٹنگ
ایرل شیرونشیرون کی نئی پارٹی
شیرون نے اپنی نئی پارٹی کا نام طے کر لیا ہے۔
اسی بارے میں
قدیما:شیرون کی نئی پارٹی
24 November, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد