ایریئل شیرون کی حالت ’تشویش ناک‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی وزیراعظم ایریئل شیرون کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ ان کی حالت تشویش ناک ہے اور سات گھنٹوں کی سرجری کے بعد انہیں انتہائی نگہداشت کے شعبے میں رکھا جارہا ہے۔ بدھ کی شب دماغ کی شریان پھٹنے سے بےہوشی کی حالت میں وزیراعظم شیرون کو یروشلم کے ایک ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے جہاں ان کے دماغ کا گزشتہ شب دو بار آپریشن کیا گیا۔ جمعرات کی صبح ہداثہ ہسپتال کے ڈائریکٹر شلومو مور یوسف نے بتایا: ’ان کی حالت مستحکم ہے۔ تمام اشارے معمول کی حد تک ہیں لیکن ان کی حالت سنگین ہے۔‘ ہسپتال کے ڈائریکٹر کا یہ بیان اس آپریشن کے بعد دیا گیا ہے جو شیرون کو دوبارہ دورہ پڑنے کے بعد کیا گیا تھا۔ ڈاکٹروں نے شیرون کے دوسرے دورے کو ’اہم‘ بتایا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق شیرون کے دماغ کی نس پھٹنے کی وجہ سے کافی خون بہہ رہا تھا جس کی وجہ سے انہیں دوبارہ آپریشن کرنا پڑا۔ وزیراعظم شیرون کے نائب اور وزیر خزانہ یہود اولمرت نے قائم مقام وزیراعظم کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ اسرائیلی قوانین کے تحت وہ سو دن تک قائم مقام وزیراعظم کا عہدہ سنبھال سکتے ہیں۔ بدھ کی شب ڈاکٹروں نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ دل کے سوراخ میں خون جمع ہونے کے باعث دماغ کو خون پہنچانے والی شریان بند ہوگئی تھی۔ اسرائیلی وزیراعظم نے گزشتہ ماہ لیکود پارٹی چھوڑ کر ایک نئی جماعت ’قادیمہ’ تشکیل دی ہے۔ اب لیکود پارٹی کی سربراہی شیرون کے حریف بنیامن ناتنیاہو کے پاس ہے۔ شیرون سن دو ہزار ایک سے اسرائیل کے وزیر اعظم ہیں۔ یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینالڈز کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے عوام اس امید کا منتظر ہیں کہ کیا ان کے جہاں دیدہ رہنما صحتیاب ہوسکیں گے اور بعض لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ان کا سیاسی کریئر اب ختم ہی ہوگیا ہے۔ |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||