’سعدات کے خلاف قتل کا مقدمہ نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ گرفتار کیے جانے والے فلسطینی شدت پسند رہنما احمد سعدات کے خلاف سن دو ہزار ایک میں اسرائیلی وزیر ریحبام زیفی کے قتل کا مقدمہ نہیں چلائیں گے۔ اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ سادات کے خلاف قتل کا مقدمہ چلانے کے لیے ضروری شہادتیں نہیں ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سعدات کے خلاف حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی کا مقدمہ چلایا جائےگا۔ سعدات نے مارچ میں اپنے آپ کو اس وقت اسرائیلی فوج کے حوالے کر دیا جب انہوں غرب اردن کی اس جیل پر چھاپہ مارا جہاں وہ قید تھے۔ اسرائیل کے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر سیاح رحبعام زیفی کو اکتوبر دو ہزار ایک میں ایک ہوٹل میں قتل کر دیا گیا تھا۔ سعدات شدت پسند تنظیم عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے سربراہ ہیں۔ انہیں یاسر عرفات کی قیادت میں فلسطینی انتظامیہ اور اسرائیل کے درمیان ایک سمجھوتے کے تحت غرب اردن میں جیریکو کی جیل میں قید رکھا گیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے، اس خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہ حماس کی حکومت قیدیوں کو رہا کر دے گی، مارچ میں اس جیل پر دھاوا بولا تھا۔ جیریکو کی اس جیل میں تعینات امریکی اور برطانوی نگران اسرائیلی فوج کے چھاپے سے چند گھنٹے پہلے مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی شکایت کرتے ہوئے وہاں سے چلے گئے تھے۔ احمد سعدات نے ابتدائی طور پر اسرائیلی فوجیوں کے خلاف مزاحمت کی تھی۔ ان کی گرفتاری کی کوشش کے خلاف غرب اردن اور غزہ میں مظاہرے بھی ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں ’فلسطین میں بحران پیدا ہونے کا خدشہ‘19 April, 2006 | آس پاس حماس، الفتح کے درمیان صلح23 April, 2006 | آس پاس یہ جرم ناقابل معافی ہے:عباس15 March, 2006 | آس پاس فلسطینی و اسرائیلی حملے، 10 ہلاک17 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||