یہ جرم ناقابل معافی ہے:عباس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی صدر محمود عباس اپنا یورپ کا دورہ مختصر کرکے غرب اردن کی جیل پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے شدت پسند رہنما سعدات کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے گرفتاری کے لیے کی جانے والی اسرائیلی کاروائی کو ایک ناقابل معافی جرم اور فلسطینی عوام کی تذلیل قرار دیا ہے۔ وہ جیل کے منہدم حصوں کے پاس کھڑے تھے جب انہوں نے کہا کہ’ سعدات کی گرفتاری غیرقانونی ہے۔‘ منگل کو فلسطینی شدت پسند رہنما احمد سعدات کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے طور پر فلسطینی غزہ کی پٹی اور غربِ اردن میں ہڑتال کر رہے ہیں۔ فلسطینیوں کے تمام دھڑوں نے کہا ہے کہ احمد سعدات کی گرفتاری کے خلاف کاروباری ادارے اور سکول بند رہیں گے۔ احمد سعدات نے گزشتہ روز جیریکو میں خود کو اس وقت اسرائیلی حکام کے حوالے کر دیا تھا جب اسرائیلی فوج نے فلسطینی جیل پر ہلہ بولا تھا۔ احمد سعدات بائیں بازو کی جماعت پاپولر فرنٹ کے رہنما ہیں۔
غربِ اردن میں اسرائیلی فوج کی کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب برطانیہ اور امریکہ کے نگران، فلسطینیوں کے زیرِ انتظام جیل سے سکیورٹی کی شکایات کے بعد واپس چلے گئے۔ دریں اثناء مسلح افراد نے ان گیارہ افراد کو رہا کر دیا ہے جنہیں اسرائیلی کارروائی کے جواب میں اغواء کر لیا گیا تھا۔گزشتہ رات دو فرانسیسی اور جنوبی کوریا کے ایک شہری کو یرغمال بنا لیا گیا تھا لیکن اب انہیں فلسطینی پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ منگل کو غزہ میں برطانوی ثقافتی کونسل کو نذرِ آتش کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے غربِ اردن میں اسرائیلی حکام چوکس ہوگئے ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ تشدد کے مزید واقعات ہو سکتے ہیں۔ غزہ اور غربِ اردن میں ہڑتال کے اعلان سے قبل فلسطینیوں کا ایک ہنگامی اجلاس ہوا تھا جس میں احمد سعدات کی گرفتاری پر غور کیا گیا۔ ہنگامی اجلاس میں شریک ایک مندوب نے بتایا: ’تمام فلسطینی دھڑوں نے فلسطینی علاقوں میں ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ سعدات کی گرفتاری، اسرائیلی جارحیت اور فلسطینیوں کے قتل کی مذمت کی جا سکے۔‘ احمد سعدات کی جماعت نے خبردار کیا کہ اس گرفتاری پر جوابی کارروائی کی جائے گی۔ فلسطینی رہنما محمود عباس نے بھی اپنا یورپ کا دورہ مختصر کر دیا ہے تاکہ وہ اس نئی صورتِ حال سے نمٹ سکیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ محمود عباس نے اس دورے میں بدھ کو یورپی پارلیمان سے خطاب بھی کرنا تھا۔ ادھر اسرائیل نے کہا ہے کہ منگل کو گرفتار کیئے جانے والے درجنوں قیدیوں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق زیرِ حراست افراد میں سے احمد سعدات کے علاوہ چار افراد کا تعلق پاپولر فرنٹ سے ہے اور انہیں دو ہزار ایک میں اسرائیل کے وزیرِ سیاحت ریحوام زیوی کے قتل کے سسلسلے میں مقدمے کا سامنا ہوگا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جیل پر ہونے والی کارروائی اس لیئے ضروری تھی کہ فلسطینی حکام کئی شدت پسندوں کو رہا کرنے والے تھے۔ احمد سعدات دو ہزار دو سے فلسطینی حراست میں ہیں اور انہیں عالمی نگرانی کے تحت ایک معاہدے کے بعد جریکو کی جیل میں منتقل کر دیا گیا تھا تاکہ رملُہ میں یاسر عرفات کے احاطے سے اسرائیلی قبضہ ختم کیا جا سکے۔ تاہم اگلے ہی ماہ ایک فلسطینی عدالت نے انہیں یہ کہہ کر رہا کر دیا تھا کہ اسرائیلی وزیر زیوی کے قتل میں ان کے شامل ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ اس سال وہ فلسطینی پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے تھے اور محمود عباس اور حماس نے کہا تھا کہ احمد سعدات کو جلد رہا کر دیا جائے گا۔ |
اسی بارے میں جریکو میں اسرائیلی کارروائی 15 March, 2006 | آس پاس حکومت کا قیام، حماس کی کوششیں13 March, 2006 | آس پاس اسرائیلی منصوبہ اعلان جنگ: حماس10 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||