حکومت کا قیام، حماس کی کوششیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطین کی اسلامی تنظیم حماس کے اہلکار فلسطین کے دیگر دھڑوں سے متحدہ حکومت قائم کرنے کے بارے میں مذاکرات کررہے ہیں۔ حماس کے ایک مجوزہ سیاسی مسودے کو فلسطین کی فتح تنظیم کی جانب سے رد کیئے جانے کے بعد حماس کے پارلیمانی گروپ کے سربراہ محمد الظاہر نے غزا میں ان مذاکرات کی میزبانی کی۔ فتح تنظیم کو جنوری کے انتخابات میں شکست کا سامنا رہا ہے۔ نئی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں مزید مذاکرات منگل کو متوقع ہیں۔ فلسطینی رہنما محمود عباس نے متنبہ کیا ہے کہ اگر حماس دو ہفتے کے اندر اندر انتظامیہ کے قیام میں کامیاب ناکام رہی تو ان کی فتح تنظیم اقلیتی حکومت قائم کردے گی۔ اس سے قبل فلسطین کی نئی پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس بحران کی صورت میں ختم ہوا تھا اور فتح کے ارکانِ پارلیمان احتجاجاً اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔ اس بحران کی وجہ شدت پسند حماس کی پارلیمنٹ میں اکثریت تھی۔ جسے استعمال کرتے ہوئے حماس کے ارکان نے ان اقدامات کو منسوخ کرنے کی کوشش کی جنہیں گزشتہ پارلیمنٹ نے منظور کیا تھا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ ایک قومی حکومت کی تشکیل کے لیے حماس کے ارادوں پر عمل کو اور دشوار بنا دے گا۔ حماس نے جن اقدام کو منسوخ کرنے کی کوشش کی ان میں حریف فتح گروپ کو اہم انتظامی عہدوں پر حصہ مختص کرنے اور فلسطینی صدر محمود عباس کے اختیارات میں توسیع کے فیصلے شامل تھے۔ | اسی بارے میں سرحد کیلیے یکطرفہ انخلاء: اسرائیل05 March, 2006 | آس پاس مذاکرات بڑی پیش رفت: حماس04 March, 2006 | آس پاس حماس اور روس کے ماسکومیں مذاکرات03 March, 2006 | آس پاس حماس کو روس کی دعوت03 March, 2006 | آس پاس فلسطین میں دو افراد ہلاک02 March, 2006 | آس پاس فلسطینی صدر کی استعفی کی دھمکی26 February, 2006 | آس پاس امریکی امداد واپس کرنے کا فیصلہ18 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||