فلسطین میں دو افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تشدد کی نئی لہر کے دوران میں بدھ کو دھماکے کے نتیجے میں ایک فلسطینی رہنما اور فائرنگ سے ایک اسرائیلی آباد کار ہلاک ہو گیا ہے۔ مرنے والے فلسطینی رہنما خالد الدحدو غزہ میں اسلامی جہاد آرمی کے سربراہ تھے۔ وہ ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔ اسلامی جہاد نے اس واقعے کا الزام اسرائیل پر لگایا ہے جبکہ اسرائیل نے اس کی تردید کی ہے۔ مرنے والا اسرائیلی آباد کار ایک پٹرول سٹیشن پر کام کر رہا تھا جب اسے مسلح افراد نے گولی مار دی۔ یہ واقعہ نابلوس کے قریب پیش آیا۔ مرنے والے کی عمر چالیس سال سے زائد بتائی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق فلسطین کی الاقصیٰ برگیڈ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے اگرچہ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ قتل جرم کی واردات ظاھر ہوتا ہے نہ کہ سیاسی قتل۔ اسلامی جہاد کے ریڈیو سٹیشن نے کہا ہے کہ پینتالیس سالہ خالد غزہ کی القدس برگیڈ کے سربراہ تھے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس سے پہلے بھی اسرائیل کے آٹھ حملوں میں بچ چکے تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق وہ اس وقت گاڑی میں تھے جس میں دھماکہ ہوا۔ اس واقعے کے بارے میں اسرائیلی سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اسرائیل کی جانب سے فضائی حملوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے جن کا ہدف شدت پسند ہیں۔ جبکہ اسلامی جہاد کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ گاڑی کے پاس سے گزر رہے تھے۔ ان کے خیال میں کار میں دھماکہ خیز مواد رکھا گیا تھا جسے اسرائیلی ایجنٹ نے دور سے چلایا۔ غزہ میں بی بی سی کے نمائندے ایلن جونسٹن کا کہنا ہے کہ مرنے والے رہنما نے ایک عسکری تنظیم کے سربراہ کے طور پر اسرائیل کے خلاف حملوں میں اہم کردار ادا کیا ہو گا۔ اس گروپ کے ایک ترجمان ابو دجانہ کا کہنا ہے کہ ’صیہونیوں کو بھی اس کڑوے مشروب کا ذائقہ چکھنا ہو گا جو ہر فلسطینی خاندان نے پہلے ہی پیا ہوا ہے‘۔ اسلامی جہاد کا کہنا ہے کہ پچھلے سال ہونے والے خود کش دھماکوں میں سے بہت سے اس نے کروائے ہیں اور وہ اب بھی اسرائیل کے جنوبی علاقوں میں میزائل فائر کرتی ہے۔ ان واقعات کے چند گھنٹے بعد مغربی کنارے کے شمالی علاقے کرنی شومرون سے فائرنگ کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ ایک اسرائیلی باشندے کو گولی لگی ہے اور اسے تشویش ناک حالت میں ہسپتال داخل کروا دیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں یورپین کمیشن کی عارضی امداد27 February, 2006 | آس پاس غربِ اردن میں چھ فلسطینی ہلاک23 February, 2006 | آس پاس ’پابندیاں اثرانداز نہیں ہوں گی‘20 February, 2006 | آس پاس اسماعیل ہنیہ کے انٹرویو کی ویڈیو20 February, 2006 | آس پاس اسماعیل ہنیہ وزیر اعظم کے امیدوار20 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||