یورپین کمیشن کی عارضی امداد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپین کمیشن نے فلسطینی اتھارٹی کو 140 ملین ڈالر کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے تاکہ فلطسطینیوں کی بنیادی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ امداد فلسطینی اتھارٹی کا انتظام چند مہینوں تک چلانے کے لیے کافی ہو گی۔ امداد کی رقم کا بڑا حصہ اقوام متحدہ کے ذریعے تقسیم کیا جائے گا جبکہ باقی رقم بجلی اور تیل کے بل اور اتھارٹی کے حکام کو تنخواہوں کی مد میں صرف کی جائے گی۔ اس سے قبل بین الاقوامی برداری اس بات پر غور کر رہی ہے کہ شدت پسند تنظیم حماس کی انتخابات میں کامیابی کے بعد آیا فلسطین کو امداد کی فراہمی جاری رکھی جائے یا نہیں۔ اسرائیل کی جانب سے فلسطین کو ملنے والے ٹیکس اور ڈیوٹی محصولات روک دینے سے فلسطینی انتظامیہ پہلے ہی پچاس ملین ڈالر سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے۔ فلسطینی علاقوں میں ٹیکس اور محصولات جمع کرنے کا کام اب بھی اسرائیل اپنے پاس رکھے ہوئے ہے۔ ابھی یورپین کمیشن نے اس بارے میں اظہار خیال سے انکار کر دیا ہے کہ آیا حماس کے حکومت سنبھالنے کے بعد بھی وہ امداد جاری رکھے گی یا نہیں۔ امریکہ نے حماس کے زیر اقتدار فلسطینی انتظامیہ کو امداد بند کردی ہے لیکن یہ کہا ہے کہ فلسطینیوں کو امریکی امداد غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے جاری رہے گی۔ | اسی بارے میں فلسطین کو رقم کی ادائیگی کا فیصلہ05 February, 2006 | آس پاس نئے فلسطینی پارلیمان کا آغاز18 February, 2006 | آس پاس ’فلسطینی مالی بحران کا شکار‘19 February, 2006 | آس پاس ’فلسطینی انتظامیہ دہشتگرد ہے‘19 February, 2006 | آس پاس فلسطینی صدر کی استعفی کی دھمکی26 February, 2006 | آس پاس فلسطینیوں کو امداد جاری: امریکہ25 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||