سرحد کیلیے یکطرفہ انخلاء: اسرائیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل میں حکام کا کہنا ہے کہ اگر قائم مقام وزیراعظم ایہود اولمرٹ کی جماعت قدیما انتخابات میں کامیاب ہوجاتی ہے تو وہ غرب اردن کی بعض یہودی بستیوں سے یکطرفہ اسرائیلی انخلاء کی پالیسی اپنائیں گے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ایہود اولمرٹ اسرائیل کی ’حتمی‘ سرحد پیدا کرنے کی جانب ایک پالیسی کے تحت حالیہ دنوں میں ایسا سوچتے رہے ہیں۔ اسرائیل میں اسی ماہ انتخابات ہونے والے ہیں۔ اسرائیلی حکام نے بتایا کہ اس پالیسی کے تحت غرب اردن کی جو آبادیاں متاثر ہوں گی انہیں بڑی یہودی بستیوں میں بسایا جائےگا۔ حکام نے یہ بھی بتایا کہ انخلاء کے باوجود ان علاقوں میں اسرائیلی فوج اپنا کنٹرول برقرار رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ مقصد یہ ہے کہ یہودی اکثریت والی اسرائیلی ریاست کا استحکام ممکن بنایا جائے۔ حکام کے بقول اس پالیسی کے تحت تاریخ میں پہلی بار اسرائیل کی دائمی سرحد طے ہوجائے گی۔ فلسطینی اہلکاروں نے اسرائیل کے اس منصوبے کی مذمت کی ہے۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل امن مذاکرات کے لیے ایک قابل اعتماد پارٹنر نہیں ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم ایریئل شیرن نے قدیما کی بنیاد ڈالی تھی جو رائے شماری کے جائزوں کے مطابق اس ماہ کے عام انتخابات میں کامیاب رہے گی۔ | اسی بارے میں ’فلسطینی مالی بحران کا شکار‘19 February, 2006 | آس پاس ’فلسطینی انتظامیہ دہشتگرد ہے‘19 February, 2006 | آس پاس اسماعیل ہنیہ کے انٹرویو کی ویڈیو20 February, 2006 | آس پاس ’پابندیاں اثرانداز نہیں ہوں گی‘20 February, 2006 | آس پاس غربِ اردن میں چھ فلسطینی ہلاک23 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||